پاکستانفیچرڈ پوسٹ

سعودی عرب کے بعد چین نے بھی پاکستان سے اپنا قرض واپس مانگ لیا، عمران حکومت کے لئے آج تک کا سب سے بڑا جھٹکا

آپ کے لیے اس کردار کو مزید آسان کر دیتا ہوں فرض کریں پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ ہو رہا ہے میچ پھنس گیا ہے

سینئر کالم نگار جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ سعودی عرب چین اور ترکی اس بار ان کے ساتھ ہیں سعودی عرب نے اپنی رقم واپس لینا شروع کر دی ہے جب کہ چین تین بلین ڈالر واپس مانگ رہا ہے

انہوں نے کہا کہ دوسری طرف امریکا تیل اور اس کی دھار دیکھ رہا ہے۔لاہور میں صدیوں سے دو کردار پائے جاتے ہیں ہم پہلے کردار کو ویکھی جائے دی کا نام دے سکتے ہیں یہ بہت دل چسپ لوگ ہوتے ہیں یہ عام حالات میں بہت آہستہ بہت نرم اور میٹھے میٹھے چلتے رہتے ہیں مشکلیں آتی ہیں تو یہ کچھ لے دے کر کمپرومائز کر کے آگے نکل جاتے ہیں لیکن یہ لوگ جب بھی کسی ایسے دوراہے پر آ پھنستے ہیں جس میں انہیں کوئی حتمی فیصلہ کرنا پڑتا ہے تو پھر یہ سیدھے ہو جاتے ہیں یہ ویکھی جائے دی کا نعرہ لگاتے ہیں اور مشکل سے ٹکرا جاتے ہیں۔ میں آپ کے لیے اس کردار کو مزید آسان کر دیتا ہوں فرض کریں پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ ہو رہا ہے میچ پھنس گیا ہے اور وکٹ پر کوئی لاہوریا کھڑا ہے تو یہ کیا کرے گا؟ یہ لازما ویکھی جائے دی کا نعرہ لگائے گا اور کریز سے باہر نکل کرکھیلنا شروع کر دے گا یہ آٹ ہو جائے گا یا پھر چھکے مارے گا یہ آر یا پار کرے گا مگرمحتاط نہیں کھیلے گا لاہور میں یہ کردار عام پایا جاتا ہیلاہور کا دوسرا کردار چاچا ہے ناں ہے لاہور میں یہ کردار بھی عام پایا جاتا ہے لاہوریے صدیوں سے اپنے خاندانوں کی ذمہ داری اٹھاتے چلے آ رہے ہیں یہ پہلے اپنے بہن بھائیوں کو پالتے ہیں یہ جب بڑے ہو جاتے ہیں تویہ پھر بھانجوں اور بھتیجوں کی ذمہ داری اٹھا لیتے ہیں اور یہ بھی جب بڑے ہو جاتے ہیں تو یہ پھر نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کو اپنی ذمہ داری بنا لیتے ہیں دنیا میں دور اور قریب دو قسم کے رشتے دار ہوتے ہیں لیکن لاہور میں دور یا قریب نہیں ہوتے صرف رشتے ہوتے ہیں لاہوریے اٹھارہویں نسل کے شخص کو بھی اپنا رشتے دار سمجھتے ہیں یہ اپنی برادری کے ہر شخص کو مسیر کہہ کر سینے سے لگا لیتے ہیں لاہور کا دوسرا کردار چاچا ہے ناں اس خاندانی روایت سے پیدا ہوا چناں چہ لاہور کے کسی خاندان میں اگر کوئی شخص ترقی کر جائے وہ بزنس مین یا انڈسٹری لسٹ بن جائے وہ فوج میں اعلی عہدے پر پہنچ جائے یا پھر پولیس یا سول سروس میں آ جائے تو خاندان کے تمام لوگ اسے چاچا بنا لیتے ہیں اور ہر اچھے یا برے وقت میں چاچا ہے ناں کا نعرہ لگا کر کام چلا لیتے ہیں۔ مثلا اگر پولیس کیس بن جائے تو چا چا ہے ناں وہ سنبھال لے گا کاروبار میں نقصان ہو جائے تو چاچا ہے ناں وہ سنبھال لے گا لڑائی ہو گئی تو چاچا ہے ناں وہ سنبھال لے گا اور اگر کسی جگہ پیسے کے لین دین کا معاملہ آ گیا تو بھی چاچا ہے ناں وہ سنبھال لے گا غرض اس کردار کے پاس ہر مسئلے کا ایک ہی حل ہوتا ہے اور وہ ہوتا ہے چاچا یہ ہر مشکل ہر مصیبت میں صرف اور صرف چاچے کی طرف دیکھتا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے یہ ہر مشکل ہر مصیبت اور ہر مسئلے کو چاچے کی طرف روانہ کر دیتا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ آپ اب ان دونوں کرداروں کو ذہن میں رکھیں اور پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کا تجزیہ کریں تو آپ بڑی آسانی سے صورت حال سمجھ جائیں گے ملک میں اس وقت ان دو کرداروں کے درمیان جنگ چل رہی ہے میاں نواز شریف ویکھی جائے دی پر چلے گئے ہیں۔

Back to top button