پاکستان

دنیا کی بدترین ٹرانسپورٹ پاکستان کے کس شہر میں ہے؟بین الاقوامی ایوارڈ بھی مل گیا

کراچی نے دنیا کی بدترین ٹرانسپورٹ رکھنے والے شہر کا بین الاقوامی ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔

عالمی جریدے بلوم برگ نے کراچی کو بدترین پبلک ٹرانسپورٹ رکھنے والا شہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو نصف ریونیو کماکر دینے والا شہر کراچی سیاسی طور پر یتیم ہوچکا ہے جبکہ کراچی کی 42 فیصد آبادی کو عشروں پرانی بسوں پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بندرگاہ کو شہر کے وسط سے ملانے والا ایم اے جناح روڈ جو ہمیشہ ٹریفک کی روانی میں اہم کردار ادا کرتا رہا اب مستقل بدترین ٹریفک جام کا شکار رہتا ہے۔ کراچی میں پبلک بسوں پر مشتمل ایکسپریس لین کا منصوبہ جو شہر کے بڑے حصے سے ہوکر گزرتا ہے تین سال کی تاخیر کے باوجود ادھورا پڑا ہے اس منصوبہ کے لیے مختص ایک بالائی گزرگاہ شہر کی اہم سڑکوں کی تین میں سے دو ٹریفک لینز بھی نگل چکا ہے۔ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنانے کا یہ منصوبہ تین سال قبل مکمل ہونا تھا تاہم تاحال یہ ٹریک خالی پڑا ہے۔

بلومبرگ نے 2019میں کاروں کے پرزہ جات بنانیو الی عالمی کمپنی Mister Autoکی دنیا کے 100شہروں کے ٹرانسپورٹ نظام کا جائزہ پر مبنی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں بھی کراچی کو دنیا میں پبلک ٹرانسپورٹ کے بدترین نظام کا حامل شہر قرار دیا گیا، رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ کراچی کی 42فیصد آبادی دہائیوں پرانی کھچاکھچ بھری ہوئی بوسیدہ حال بسوں کے اندر اور چھتوں پر چڑھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں کراچی کے شہری بس کی چھتوں کو ترقی یافتہ ملکوں میں چلنے والی دو منزلہ بسوں کی طرح استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی کی سڑکیں گڑھوں سے بھری ہوئی ہیں، ٹریفک سنگنلز کا پورا نظام بھی تاحال خودکار نہیں بنایا جاسکا اور سرخ اشارے کی خلاف ورزی معمول ہے۔ ملک کا سابق دارالخلافہ اور بندرگاہوں کا حامل شہر کراچی متعدد بین الاقوامی کاروباری اداروں کے علاقائی صدر دفاتر کا بھی مرکز ہے جو ملکی خزانے کے نصف سے زائد ٹیکس بھی کراچی سے ہی ادا کیے جاتے ہیں۔

Back to top button