پاکستانفیچرڈ پوسٹ

جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کے خلاف صدارتی ریفرنس کس کی بدنیتی تھی؟اختلافی نوٹ میں صدر اور وزیراعظم عمران خان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

حکومت نے جسٹس قاضی کو غیر قانونی طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی‘ صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے اختلافی نوٹ میں انکشاف

جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کے خلاف صدارتی ریفرنس کس کی بدنیتی تھی؟ اختلافی نوٹ میں صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے جسٹس قاضی کو غیر قانونی طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی۔ سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مقبول باقر نے اختلافی نوٹ بھی لکھے۔ جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ 65 صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہیکہ شکایت کنندہ جسٹس قاضی فائزعیسی کی اہلیہ کا اسپینش نام معلوم ہونا حیران کن ہے، شکایت کنندہ وحیدڈوگرکا لندن جائیدادوں تک رسائی حاصل کرنا بھی حیران کن ہے، شہزاد اکبر نے نہیں بتایا کہ وحید ڈوگر کو اس سب کا کیسے معلوم ہوا اور وفاق کا مقف ہے کہ صحافی کو اس کا سورس بتانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا تاہم وفاقی کا یہ مقف درست نہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ شکایت کنندہ کو شکایت کیلئے معلومات فیڈ کی گئیں اور شکایت کنندہ وحید ڈوگر نے اپنی تحقیقاتی خبر کسی اخبار میں شائع نہیں کی، وحید ڈوگر نے جج کے خلاف ایکشن کے لیے شکایت کا اندراج کرایا، وحید ڈوگر کا اسٹیٹس ایک شکایت کنندہ کا تھا، ایک صحافی کا نہیں۔

اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جس کسی نے بھی وحید ڈوگر کو یہ معلومات فیڈ کیں وہ کہانی کا اصل کردار ہیں،شہزاد اکبر اور ایسیٹ ریکوری یونٹ کی ٹیم کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے اور غیرقانونی طورپر معلومات دینے پرنادرا اور ایف بی آر حکام کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ جسٹس منصور کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہیکہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی معلومات لیک کرنے کا معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھا جائے، صدرمملکت نے سمری بھیجنے سے پہلے دماغ استعمال نہیں کیا، ایف بی آر کو تحقیقات کی ہدایات دینے کی ضرورت نہیں تھی، کونسل کسی بھی جج کے معاملے پر ازخود نوٹس لینے میں آزاد ہے جب کہ اداروں کو اختیارات نا ہونے پر سپریم کورٹ اپنے حکم سے اختیارات نہیں دے سکتی، ایف بی آر کی رپورٹ کونسل کے سامنے جج کے خلاف ایک نئی شکایت ہوگی۔

اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آرکو آرٹیکل 209 کے تحت صدرکو اپروچ کرنے کا اختیار نہیں، وفاقی حکومت یا اس کے ادارے جج کے کنڈکٹ پرکونسل کو شکایت نہیں کرسکتے، جسٹس عیسی کے خاندان کو بھی شہریوں کی طرح آزادی اور تحفظ حاصل ہے لیکن ان اہلیہ اور بچوں کو بلا کر نا سنا گیا اور نا ہی فریق بنایا گیا، شکایت کنندہ کی شکایت کو پزیرائی دینے کے تمام اقدامات کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں ریفرنس کو بدنیتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدرمملکت کو ریفرنس کو منظور کرکے آگے بھیجنے کا اختیار نہیں تھا۔

Back to top button