پاکستانفیچرڈ پوسٹ

نوازشریف کا جارحانہ بیانیہ، سابق وزیراعظم کی خفیہ مدد کون کر رہا ہے‘ تمام کردار سامنے آنے کے بعد سیاسی دنیا میں تہلکہ برپا ہو گیا

چند صحافیوں کے مالی اور کاروباری مفادات جبکہ چند صحافی مسلم لیگ ن کے قائد پاکستانی اداروں کے خلاف مہم چلانے پر سپورٹ کر رہے ہیں

میاں نوازشریف کا جارحانہ بیانیہ، مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد و سابق وزیراعظم کی خفیہ مدد کون کر رہا ہے اس حوالے سے تمام کردار سامنے آگئے ہیں۔

پاکستان میڈیا اس وقت سابق وزیراعظم نوازشریف کو سپورٹ کر رہا ہے، جس کی ایک وجہ چند صحافیوں کے مالی اور کاروباری مفادات ہیں جب کہ چند اس لیے بھی سپورٹ کر رہے ہیں کیوں کہ مسلم لیگ ن کے قائد پاکستان کے اداروں کے خلاف ایک مہم چلارہے ہیں، یہ انکشاف اینکر پرسن عمران ریاض خان نے کیا۔

تفصیلات کے مطابق اپنے یوٹیوب چینل پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب میں نے رپورٹنگ شروع کی تو اس وقت پنجاب حکومت کے چند لوگوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ آپ ہمارے خلاف خبریں نہ لگایا کریں، اس کے عوض بتائیں ہم آپ کی کیا خدمت کرسکتے ہیں؟ اسی طرح کی چند مزید باتیں بھی میرے ساتھ کی گئیں، جن کی مجھے سمجھ نہیں آئی،اور میں نے انکار کردیا جس کا مجھے خمیازہ بھی بھگتنا پڑا، تب مجھے پہلی بار سمجھ آئی کہ یہ جماعت صحافیوں کو خریدتی ہے، جس کے بعد ان کے مفادات کا بھی خیال رکھتی ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ جب بھی ہم باہر سے کوئی دورہ کرکے آتے تھے تو ہمارے ساتھ موجود دو تین صحافیوں کو ایئرپورٹ پر اترتے ہی خاص قسم کا پروٹوکول مل جاتا تھا، کچھ اس قسم کے چند مزید مالی یا کاروباری مفادات ہیں جن کی بنا پر یہ صحافی سابق وزیراعظم نوازشریف کو بہت پسند کرتے ہیں اور ان کے لیے کسی بھی لیول تک جاتے ہیں، مسلم لیگ ن کے قائد نے ہر جگہ ایسے گروپ بنائے ہوئے ہیں جو انہیں سپورٹ کرتے ہیں۔

اینکر پرسن عمران ریاض خان کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد جب وزیر اعظم بنے تو انہوں نے صحافیوں کا ایک بڑا گروپ بنایا، جو ان کے ساتھ بیرون ملک جانے والے ہر دورے میں ساتھ ہوتا تھا، ایک دو بار ان کی لسٹ کے علاوہ چند لوگ کسی دورے پر چلے گئے اور نوازشریف سے کوئی سوال کرلیا جس پر وہ ناراض ہوگئے اور ان کو اس لسٹ میں سے نکال دیا گیا، مسلم لیگ ن کے قائد نے صحافیوں میں اپنا ایک بہت بڑا حلقہ احباب بنایا ہوا ہے، جن کے ساتھ بہت زبردست تعلقات رکھے ہوئے ہیں اور ان کے بے شمار کام بھی کرتے ہیں۔

Back to top button