پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ق لیگ کی وزیراعظم عمران خان کے ظہرانے میں عدم شرکت‘ قومی سیاست نے ایک بار پھر نیا موڑ لے لیا، نئی سیاسی گیم کیا ہوگی؟

لوکل باڈیز ایکٹ اور اس سے جڑے اقدامات پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، کسانوں کے معاملات پر بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دیئے گئے ظہرانے میں ق لیگ کی عدم شرکت کی وجہ سے قومی سیاست نے ایک بار پھر نیا موڑ لے لیا اور نئی سیاسی گیم شروع ہو گئی ہے۔

وفاقی حکومت سے تحفظات کے پیش نظر حکومت کی اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اتحادیوں کو دیے گئے ظہرانے میں شرکت نہیں کی۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا جس کا مقصد مختلف قومی اور سیاسی امور پر اتحادیوں اعتماد میں لینا تھا۔ اسلام میں دیئے جانے والے ظہرانے میں ایم کیو ایم پاکستان، بلوچستان عوامی پارٹی اور جی ڈی اے کے وفد کے علاوہ وفاقی وزرا اور پاکستان تحریک انصاف کی اعلی قیادت نے بھی شرکت کی لیکن حکومت کی اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے مختلف معاملات پر تحفظات کے پیش نظر ظہرانے میں شرکت نہیں کی۔

اس حوالے سے مسلم لیگ ق کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہر ہفتے لاہور آتے ہیں،کبھی ق لیگ کو مشاورت میں شریک نہیں کیا، جب ق لیگ وزیراعظم کے لیے اہم نہیں تو پھر ظہرانے میں جا کر کیا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوکل باڈیز ایکٹ اور اس سے جڑے اقدامات پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، کسانوں کے معاملات پر بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی کسانوں کے حوالے سے پالیسی درست نہیں ہے، ہم کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیں ان کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ رہنما ق لیگ کا کہنا تھا کہ جب بھی حکومت کو ضرورت پڑی تو ان کو حکومتی لوگوں سے زیادہ بڑھ کر ووٹ ڈالا، ہمیں پیغام دینیکے لیے آنے والے وزرا بھی کہتے ہیں کہ ق لیگ سے زیادتی ہو رہی ہے لہذا مسلم لیگ ق کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ صرف کھانا کھانے نہیں جاسکتے۔

مسلم لیگ ق کا مؤقف ہے کہ وزیراعظم نے 2 سال سے پوچھا تک نہیں، کھانے پر کیوں جائیں، چوہدری شجاعت بیمار رہے، وزیراعظم نے رابطہ بھی نہیں کیا، وزیراعظم لاہور آتے ہیں تو ق لیگ کو کسی معاملے پر اعتماد میں نہیں لیتے۔ ق لیگ کی قیادت کا مؤقف ہے کہ 2 سال میں کسی بھی حوالے سے مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا، گندم کی قیمت مقرر کرنے کے لیے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، گندم کی قیمت2 ہزار روپے فی من مقرر کی جائے۔

متعلقہ خبریں