پاکستانفیچرڈ پوسٹ

وزیراعظم عمران خان کشمیروں کے دوست نہیں بلکہ دشمن نکلے’ صحافی حامد میر نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی اتحاد پر بھی سنگین الزام لگا دیا

سیاسی مفاد پرستی اور عاقبت نااندیشی میں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی میں کوئی فرق باقی نہ رہا

اسلام آباد میں اِس دھماکے پر کچھ چیخ و پکار ہوئی لیکن اقتدار کے ایوانوں میں اِس چیخ و پکار پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔ یہ دھماکہ یکم نومبر کو گلگت میں ہوا جہاں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا نیا صوبہ بنانے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ یہ نہیں سوچا گیا کہ آئین پاکستان کی دفعہ 257 جس ریاست جموں و کشمیر کا ذکر کرتی ہے، اس ریاست کا مستقبل کیا ہو گا؟ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کو اپنی ریاست کا حصہ قرار دیا اور آزاد کشمیر اسمبلی نے قرارداد کے ذریعہ اسے اپنا علاقہ قرار دیا تو یہ سب کیوں ہوا اور یہ معاملات کیسے طے کرنا ہیں؟ کچھ عرصہ قبل پاکستان کی حکومت و اپوزیشن کی اہم شخصیات اور عسکری قیادت کی ملاقات میں طے ہوا تھا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا فیصلہ 15نومبر کے انتخابات کے بعد ہوگا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا لیکن عمران خان نے الیکشن جیتنے کیلئے یکم نومبر کو وہ اعلان کر دیا جس کا کریڈٹ مسلم لیگ (ن)بھی لینا چاہتی ہے اور پیپلز پارٹی بھی۔ اگر صوبہ بنا دینے سے حقوق مل جاتے تو آج بلوچستان والے شور نہ مچا رہے ہوتے۔ سیاسی مفاد پرستی اور عاقبت نااندیشی میں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی میں کوئی فرق باقی نہ رہا۔ اِن جیسے دوستوں کی موجودگی میں کشمیریوں کو کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں۔

Back to top button