پاکستان

عمران خان کو کیسے رخصت کیا جائے گا؟ ملک کے اہم صوبہ نے آواز اٹھا دی، لیگی نائب صدر مریم نواز نے بھی اپنے لئے گھر مانگ لیا

عمران خان جیسے آئے تھے ویسے ہی جائیں گے، سلیکٹرز اور کوئی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام ہیں

وزیراعظم عمران خان کو کیسے رخصت کیا جائے گا؟ اس حوالے سے ملک کے اہم صوبہ نے آواز اٹھا دی اور لیگی نائب صدر مریم نواز نے بھی اپنے لئے گھر مانگ لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے علاقے استور میں جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بزدل لوٹے جھکتے بھی ہیں اور بکتے بھی ہیں، جتنی چاہے دھاندلی کرلو جتنے چاہے مسلم لیگ ن کے لوگوں کو توڑ لو، بزدل لوٹے ہوسکتے ہیں بزدلوں کو خرید بھی سکتے ہو لیکن گلگت بلتستان کے عوام کو نہیں خرید سکتے، کیا ایسے لوگوں کو ووٹ دو گے جو نہ خواتین کا احترام کرتے ہیں اورنہ انسان کا؟ جیل والد سے ملاقات کرنے گئی تو والد کی آنکھوں کے سامنے گرفتار کیا گیا، مجھے سچائی کا ساتھ دینے پر گرفتار کیا گیا تھا، حق کی آواز اٹھانے پر گرفتار کیا گیا تھا، مجھے گلگت بلتستان کی عوام کی طرح نوازشریف کے ساتھ ڈٹے رہنے پر گرفتار کیا گیا تھا، اپنی تقدیر، ترقی اور خوشحالی کا فیصلہ ایسی حکومت کے ہاتھ نہ دیں جو جاتی نظر آرہی ہے، حکومت عزت کیلئے کی جاتی ہے، ایسی حکومت سے موت اچھی جس کے بدلے ذلت ملے جو انہیں مل رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پورا پاکستان آج جھولیاں اٹھاکر عمران اور انکے لوگوں کو بددعائیں دے رہا ہے، عمران خان جیسے آئے تھے ویسے ہی جائیں گے، سلیکٹرز اور کوئی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام ہیں، کہتے تھے 90 دن میں سب بدل دوں گا اب کہتے ہیں میرے پاس الہ دین کا چراغ نہیں ہے، گیدڑ وعدہ کرتا ہے لیکن شیر وعدے نبھاتا ہے، جس حکومت کو کونے کونے سے بددعائیں مل رہی ہیں کیا انہیں ووٹ دیں گے؟۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ 2018 ایک الگ وقت تھا، تب تم نے دھاندلی کرلی اب گلگت بلتستان میں دھاندلی کی گنجائش نہیں ہے، مریم نواز تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گی بلکہ تمہیں گھر تک چھوڑ کر آئے گی، اگر دھاندلی کی کوشش کی تو عوام تمہیں نہیں چھوڑیں گے، استور میں پیدا ہونے والے بچوں کا نام نوازشریف رکھاجاتا ہے، نوازشریف اور مریم نواز بھی محبت نبھانا جانتے ہیں، گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ محبت کا رشتہ نبھاوں گی، لاہور واپس جانے کو دل نہیں کررہا، کیوں کہ گلگت بلتستان کے عوام نے بے پناہ عزت دی، اگر گلگت بلتستان میں رہوں تو مجھے گھر دیں گے نا؟۔

Back to top button