پاکستان

گندم کا بحران، قومی خزانے کو کتنے ارب کا نقصان پہنچ چکا ہے؟ ذمہ داروں کے نام منظر عام پر، پی ٹی آئی کی بنیادیں ہل کر رہ گئیں

گندم کے بحران کے نتیجے میں قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی رقم کو حکومت کی جانب سے سبسڈیز کی صورت میں ادا کیا جائے گا

ملک بھر میں پھیلے ہوئے گندم بحران کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچ چکا ہے اور ذمہ داروں کے نام بھی منظر عام پر آگئے جس کے بعد پی ٹی آئی کی بنیادیں ہل کر رہ گئی ہیں۔

ٓذرائع کے مطابق وزارت برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ گندم کے بحران کے نتیجے میں قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی رقم کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سبسڈیز کی صورت میں ادا کیا جائے گا۔ اس حوالے سے اجلاس کے بعد وزارت خزانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی، جس نے پیر کے روز صرف گندم کی طلب اور رسد سے متعلق ایک نکاتی ایجنڈے پر اجلاس طلب کیا تھا، نے سبسڈیز کے اعداد و شمار کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم ذیلی کمیٹی کی تشکیل محض رسما کی گئی ہے کیونکہ اعداد و شمار کو پہلے ہی فوڈ اتھارٹی اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود خان کی جانب سے طے کیے جا چکے ہیں۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ گندم کے معاملے پر اقتصادی رابطہ کمیٹی کے آٹھ نومبر 2020 کو ہونے والے اجلاس میں رابطہ کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں یہ طے کیا گیا تھا کہ ایس اے پی ایم کی رہنمائی میں وزارت خزانہ، نیشنل فوڈ سکیورٹی اور صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد درآمد شدہ اور مقامی گندم پر سبسڈی کی کل مالیت طے کرنے سے متعلق ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

2018 میں اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے 5.5 ملین میٹرک ٹن گندم اور اس کی پراڈکٹس کی درآمد کی اجازت دی تھی جس نے نہ صرف گندم کا بحران پیدا ہوا بلکہ اس کی قیمت میں بھی 75 فیصد اضافہ ہوا۔ اب نہ صرف حکومت مقامی مارکیٹ سے گندم کو مہنگے داموں خرید رہی ہے بلکہ 2.2 ملین میٹرک ٹن گندم درآمد بھی کر رہی ہے۔

Back to top button