پاکستان

آئی جی کےاغواء کی رپورٹ،شاہد خاقان عباسی نےبڑا مطالبہ کردیا

سابق وزیرِاعظم کہتےہیں کہ آئی جی کےاغواء کی رپورٹ کوپبلک ہونا چاہیئے

مسلم لیگ نون کےرہنما اورسابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی کہتےہیں کہ آئی جی کےاغواء کی رپورٹ کوپبلک ہونا چاہیئے،ورنہ ابہام رہے گا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس کی سماعت کےسلسلےمیں پیشی کےموقع پرمیڈیا سےگفتگوکرتےہوئےشاہد خاقان عباسی کا کہنا ہےکہ انکوائری رپورٹ نہیں آئی،ایک خلاصہ آیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ کچھ افسران نےجذبات میں آ کر آئی جی سندھ کواغواء کرلیا۔ سابق وزیرِاعظم کا کہنا ہےکہ جذبات میں آئی جی کواغواء کیا جاسکتا ہے،توعوامی تکلیف دورکرنےکوجذبات میں اختیارات سےتجاوزبھی کیا جا سکتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نےمزید کہا کہ مجھ پرکرپشن کا الزام نہیں،اختیارات سےتجاوزکا الزام ہے،آئی جی کےاغواء کےحقائق عوام کےسامنےلائےجائیں۔

انہوں نےمطالبہ کیا کہ آئی جی کےاغواء کی رپورٹ کوپبلک ہونا چاہیئے،ورنہ ابہام رہےگا۔ سابق وزیرِاعظم کا یہ بھی کہنا ہےکہ پہلےوزیرِ اعظم لیاقت علی خان کےقتل کا بھی اب تک پتہ نہیں چل سکا۔ دوسری جانب احتساب عدالت کےجج اعظم خان نےایل این جی ریفرنس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت شاہد خاقان عباسی کےوکیل بیرسٹرظفر اللّٰہ نےریفرنس کی دستاویزپراعتراضات کرتےہوئےکہا کہ ضمنی ریفرنس میں نیب نےمطلوبہ دستاویزفراہم نہیں کیں۔ انہوں نےاحتساب عدالت سےاستدعا کی کہ عدالت پہلےہمارے اعتراضات پرفیصلہ کرے۔ احتساب عدالت نےقومی احتساب بیورو(نیب) کواعتراضات دورکرنےکی ہدایت کی۔ احتساب عدالت کےجج اعظم خان نےحکم دیا کہ نیب اورملزمان کے وکلاء بیٹھ کران اعتراضات کودورکریں، نیب ایک دن کےاندراعتراضات دورکرے۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایل این جی ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

Back to top button