پاکستانفیچرڈ پوسٹ

گلگت بلتستان میں حکومت کون بنائے گا؟ کس کا پلڑا بھاری نکلا، کس کو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنا نصیب ہوگا؟

حکومت سمیت اپوزیشن پارٹیاں بھی انتخابی وعدوں لاروں کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہیں، اس کا رزلٹ 15 نومبر کو نکل آئے گا

گلگت بلتستان میں حکومت کون بنائے گا؟ کس کا پلڑا بھاری نکلے گا اور کس کو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنا نصیب ہوگا اس حوالے سے بڑی خبر سامنے آئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان میں الیکشن مہم عروج پر ہے‘حکومت سمیت اپوزیشن پارٹیاں بھی انتخابی وعدوں لاروں کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ 15نومبر کی شام کو رزلٹ کیا نکلتا ہے۔جبکہ میدان میں جلسوں کے حوالے سے تو ن لیگ،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی تینوں جماعتیں مضبوط امیدوار کے طور پر نظر آ رہی ہیں۔

سینئر صحافی عارف نظامی نے پیپلز پارٹی کے رہنماء مولا بخش چانڈیو سے سوال کیا کہ گلگت بلتستان الیکشن کے حوالے سے وہ کیا کہتے ہیں۔تو مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے گلگت میں بہت کام کیا ہوا ہے وہاں کے لوگ ذوالفقار علی بھٹو کی بہت عزت کرتے تھے اور آج بھی انہیں محبت سے یاد کرتے ہیں اور اس وقت بلاول کے جلسوں میں جس قسم کا رش دیکھ رہے ہیں تو ہم یہ دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت میں ہماری حکومت ہو گی۔

تاہم پروگرام اینکر نے کہا کہ ایسی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ پیپلز پارٹی ا ور پی ٹی آئی کے درمیان بھی الحاق ہو سکتا ہے کہ دونوں مل کر حکومت بنا لیں۔اس پر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ سیاست میں کسی کی ذاتی دشمنی نہیں ہوتی وقت آنے پر دیکھیں گے کہ کسی کے ساتھ الحاق کرتے ہیں یا پھر اپنی اکیلی حکومت بناتے ہیں۔عارف نظامی نے سوال کیا کہ بلاول بھٹو کے آرمی چیف کے ساتھ تعلقات بھی بہتر ہوئے ہیں بلاوال ہی کے کہنے پر آرمی چیف نے کراچی واقعہ کی انکوائری کرائی تھی اور انکوائری رپورٹ کے مطابق اس ایشو سے پیپلز پارٹی ا ور سندھ حکومت کو کلیئر کیا گیا ہے تو کیا پیپلز پارٹ وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہی ہے۔ اس پر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ آپ کو نظر آ رہاہے وکٹ کی دونوں جانب۔ایسانہیں ہے بلکہ سیاست میں سب سے تعلقات رکھنے پڑتے ہیں اور آرمی بھی ہماری اپنی ہے اور ڈائیلاگ کا آپشن ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔

Back to top button