پاکستانفیچرڈ پوسٹ

فوج سے بات ہوسکتی ہے مگر اس کے لئے یہ کام کرنا ہوگا‘ مریم نواز نے کھل کر اپنی شرائط سب کے سامنے رکھ دیں

پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بات چیت پر غور کیا جا سکتا ہے لیکن شرط یہی ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کو گھر بھیجا جائے

مسلم لیگ ن کی نائب صدر و سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے فوج سے بات کرنے کے لئے کھل کر اپنی شرائط سب کے سامنے رکھ دی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ان کی جماعت فوج سے بات کرنے کے لیے تیار ہے اور اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بات چیت پر غور کیا جا سکتا ہے لیکن شرط یہی ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔ مریم نواز گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں آج کل اس خطے میں موجود ہیں۔

مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان کے قریبی ساتھیوں سے بات چیت کے لیے رابطے کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا: ‘اسٹیبلشمنٹ نے میرے ارد گرد موجود بہت سے لوگوں سے رابطے کیے ہیں مگر میرے ساتھ براہِ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا’۔ اس سوال پر کہ کیا وہ پاکستانی فوج کی موجودہ قیادت سے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں مریم نواز شریف نے کہا کہ ‘پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مذاکرات کے آغاز پر غور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ جعلی حکومت کو گھر بھیجا جائے’۔ واضح رہے کہ پاکستانی فوج کی موجود قیادت پر مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے الزام لگایا تھا کہ آرمی چیف ان کو وزارتِ عظمی سے ہٹانے کے لیے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے اسے ‘سازش’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض بھی شامل تھے۔

مسلم لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ فوج میرا ادارہ ہے، ہم ضرور بات کریں گے، لیکن آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے۔ اگر کوئی کریز سے نکل کر کھیلنے کی کوشش کرے گا، جو (دائرہ کار)آئین نے وضع کر دیا ہے اس میں رہ کر بات ہو گی، اور وہ بات اب عوام کے سامنے ہو گی، چھپ چھپا کر نہیں ہو گی۔’ انھوں نے کہا کہ میں ادارے کے مخالف نہیں ہوں مگر سمجھتی ہوں کہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو اس حکومت کو گھر جانا ہو گا۔

Back to top button