پاکستان

اپوزیشن اتحاد کے ہاتھوں عمران خان اور اداروں کو عبرتناک شکست‘ وزیراعظم کے پسندیدہ صحافی نے حقائق کھول کر بے نقاب کر دیئے

وزیراعظم اور ریاستی ادارے مانیں یا نہ مانیں، اپوزیشن اور ریاست کے درمیان جاری مقابلے کے پہلے راونڈ میں انہیں شکست ہوئی ہے

وزیراعظم کے پسندیدہ صحافی نے حقائق کھول کر بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کے ہاتھوں عمران خان اور اداروں کو عبرتناک شکست ہو گئی ہے۔

معروف اینکر پرسن کامران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ریاستی ادارے مانیں یا نہ مانیں، اپوزیشن اور ریاست کے درمیان جاری مقابلے کے پہلے راونڈ میں انہیں شکست ہوئی ہے۔اپنے ویڈیو پیغام میں کامران خان نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن میں کشمکش جاری ہے جس میں ایک طرف نواز شریف، آصف علی زرداری اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ہیں تو دوسری طرف عمران خان اور فوجی قیادت ہے، میں سمجھتا ہوں کل اس مقابلے کا پہلا راونڈ ختم ہوا اور اس راونڈ میں نواز زرداری اتحاد کو بے مثال سیاسی مہارت کی بدولت کامیابی ہوئی ہے۔

کامران خان نے کہا کہ سندھ پولیس سے کیپٹن(ر) صفدر کو معصوم، ان کے خلاف ایف آئی آر کو فراڈ قرار دلوادیا، اس کے چند گھنٹوں بعد ہی افواج پاکستان کی جانب سے ایک غیر معمولی اعترافی بیان جاری ہوا جس میں انکشاف ہوا کہ فوجی تحقیقات میں ثابت ہوا کہ سندھ رینجرز اور آئی ایس آئی کے افسران انتہائی غیر مناسب رویے کے مرتکب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا اس پیش رفت کے بعد پی ڈی ایم کے کیمپ میں شادیانے بجنے لگے، اس فتح کے پیچھے پیپلزپارٹی کی کمال حکمت عملی تھی اور اس پر عملدرآمد کروانے والی جماعت مسلم لیگ ن تھی، کامران خان نے کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے بعد بننے والی صورتحال میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے بیانات کا حوالہ بھی دیا۔یاد رہے واقعہ کراچی کے پس منظر میں آئی جی سندھ کی شکایات کے ازالے کیلئے چیف آف آرمی سٹاف کے حکم کے تحت قائم کورٹ آف انکوائری مکمل ہو چکی جس کی سفارشات کی روشنی میں، اس واقعہ میں ملوث آئی ایس آئی سیکٹر ہیڈ کوارٹرز اور سندھ رینجرز کے افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جبکہ ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان افسران کے خلاف مزید کارروائی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں عمل میں لائی جائے گی۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے اس ضمن میں جاری کئے گئے مفصل بیان میں بتایا گیا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کے حکم پر آئی جی سندھ کی شکایات کے حوالے سے فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل ہوگئی ہے۔

Back to top button