پاکستان

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور میجر جنرل بابر افتخار نے بھارت کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارت کی جانب سے دہشتگردی اور دہشتگردوں کو مالی معاونت کے ثبوت پیش کردیئے۔

اسلام آباد میں وزیر خارجہ نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کل لائن آف کنٹرول پر جو بزدلانہ کارروائی کی ہے، میں اس کی مذمت کرتا ہوں جس میں ہمارے معصوم نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔آپ دیکھ رہے ہیں کچھ عرصے سے یہ ان کا طریقہ کار چلا رہا ہے کہ وہ مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، یہ سب سے اہم معاہدہ ہے جو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان طے ہوا تھا اور جس روانی سے یہ اس کی دھجیاں اڑا رہے ہیں وہ قوم کے سامنے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے اصلی چہرے کو قوم اور عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرنا ہے، یہ سفر جو آپ دیکھ رہے ہیں، جس کا آغاز سیکولرزم سے ہوتا ہے اور آج وہ ایک فاشنز کی شکل اختیار کر چکا ہے اور یہ اب دنیا پر عیاں ہو چکا ہے۔شاہ محمود نے کہا کہ وہ ریاست جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتی تھی، وہ اپنی حرکتوں، اپنی کارروائیوں سے ہماری اطلاعات کے مطابق ایک سرکش اور بدمعاش قوم کا روپ اختیار کرنے جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی مصدقہ اطلاعات اور شواہد ہیں کہ جس کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان ریاستی دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے، ہندوستان نے پاکستان عدم استحکام کا شکار کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ تشویش میرے لیے نئی نہیں ہے، گاہے بہ گاہے مکتلف سطح اور فورمز پر میں اس کا اظہار اور سفارتی ذرائع کو استعمال کرتا رہا ہوں لیکن وقت آ گیا ہے کہ اب قوم بالخصوص بین الاقوامی برادری کو اعتماد میں لیا جائے، میں سمجھتا ہوں کہ مزید خاموش رہنا پاکستان کے مفاد میں نہ ہو گا اور اس خطے کے امن اور استحکام کے مفاد میں بھی نہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں، ہمارے کامیاب آپریشنز ان کو ہندوستان ہضم نہیں کر پا رہا اور ان کا منصوبہ اب واضح ہو چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 9/11 کے بعد پاکستان ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ بن جس کی ہم نے بہت بھاری قیمت بھی ادا کی، اس کا اعتراف کیا بھی جاتا ہے لیکن جتنا ہونا چاہیے اتنا نہیں ہوتا۔

پریس کانفرنس کے دوران بذریعہ پراجیکٹر سلائیڈز کے ذریعے ایک گراف بھی دکھایا جس میں 2001 سے 2020 تک پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے اعدادوشمار بھی دکھائے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ اس دوران 19ہزار 130 دہشت گرد حملے پاکستانیوں نے برادشت کیے، 83 ہزار سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہوئے اور ان میں 32ہزار شہادتیں ہیں جس میں 23ہزار نہتے شہری، بچے اور خواتین ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مالی نقصانات کا جائزہ لیا جائے تو ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کو 126 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا ہے اور جو معاشی مواقع گنوائے اس پر تو میں نظر دوڑا ہی نہیں رہا کیونکہ اس کو گننا آسان نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان دنیا میں امن و استحکام کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا تھا تو بھارت پاکستان کے گرد ایک دہشت گرد نیٹ ورک کا جال مسلسل بن رہا تھا، ہندوستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رہا تھا اور ناصرف اپنی سرزمین بلکہ گردونواح اور پڑوسی میں بھی جہاں ان کو جگہ ملی، انہوں نے فائدہ اٹھایا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش جاری رکھی۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ دہشتگردی اور دہشتگرد تنظیموں کی تمام کارروائیوں کے پیچھے بھارت ہے، افغانستان میں موجود بھارتی کرنل راجیش دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے جب کہ بھارت نے حال ہی میں 30 داعش دہشتگردوں کو پاکستان اور ارد گرد منتقل کیا۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارتی ایجنسی ’را‘ اپنے فرنٹ مین کو تیسرے ممالک کے ذریعے فنڈ کرتا ہے، بھارت سے دہشتگردی کے لیے افغانستان رقوم بھیجی گئیں، الطاف حسین گروپ کو بھارتی ایجنسی ’را‘ کی طرف سے فنڈنگ کی گئی جب کہ سی پیک کے خلاف بھارت نے 700 افراد پر مشتمل ملیشیا ترتیب دی۔

میجر جنرل بابر افتخار نے مزید کہا کہ بھارت کئی تنظیموں کو ہتھیار، آئی ای ڈی اور خود کش جیکٹس فراہم کر رہا ہے، را نے ٹی ٹی پی کو بھی ہتھیار، خود کش جیکٹس اور آئی ای ڈیز فراہم کی جب کہ الطاف حسین گروپ کو بھی ہتھیار فراہم کیے گئے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی تربیتی مراکز افغانستان میں بھی ہیں، اجمل پہاڑی نے تسلیم کیاکہ بھارت الطاف حسین گروپ کو تربیت دیتا ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ڈاکٹر اللہ نذر کی بھارتی ’را‘ کے ساتھ روابط مصدقہ ہیں، ڈاکٹر اللہ نذر نے جعلی افغان پاسپورٹ پربھارت کا سفرکیا، بی ایل اے اور بی ایل ایف گوادر میں پرل کانٹی نیٹل ہوٹل پر حملوں میں ملوث تھے جب کہ پشاور ایگری کلچر یونیورسٹی اور اے پی ایس میں بھی ’را‘ ملوث تھی، ان حملوں کی وڈیوز افغانستان سے آپ لوڈ کی گئیں۔

Back to top button