پاکستانفیچرڈ پوسٹ

جی بی انتخابات، آزاد امیدواروں نے کس جماعت کے حق میں اپنا فیصلہ سنا دیا، اپوزیشن اتحاد کو ناقابل یقین جھٹکا دے دیا گیا

کہا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد پی ٹی آئی کے نمبر پورے ہو جائیں گے

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ جاری ہے۔گلگت بلتستان میں الیکشن جیتنے والے 4 امیدواروں نے پی ٹی آئی میں شمولیت کی یقین دہانی کروا دی۔

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان میں جیتنے والوں سے پی ٹی آئی دیگر 3 آزاد امیدواروں سے بھی رابطے کر رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد پی ٹی آئی کے نمبر پورے ہو جائیں گے،پی ٹی آئی دو تہائی اکثریت بنانے کی پوزیشن میں ہو گی اور حکمران جماعت گلگت بلتستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اگر یہ چار امیدوار پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیتے ہیں تو پھر پی ٹی آئی دو تہائی اکثریت کی پوزیشن میں آ جائے گی۔خیال رہے کہ گلگت بلتستان انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو نو حلقوں میں برتری حاصل ہے۔

گلگت بلتستان انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے پہلی، آزاد امیدواروں نے دوسری اور پیپلز پارٹی نے تیسری پوزیشن حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن چوتھی پوزیشن پر رہی۔ گلگت بلتستان الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف 9، آزاد امیدوار 7 نشستوں پر کامیاب رہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 4، ایم ڈبلیو ایم 1 اور مسلم لیگ ن 2 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو سکی۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے پیش نظر مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بلاول اور مریم نواز نے بھرپور انتخابی مہم چلائی جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے علی امین گنڈاپور،زلفی بخاری اور مراد سعید انتخابی مہم میں پیش پیش رہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ایف نتائج کو مسترد کر چکے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)نے گلگت بلتستان میں انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ اگست میں انتخابات ہونا تھے دھاندلی کی خاطر تاخیر سے الیکشن کروائے گئے،ڈھائی سال سے یہ عمل جاری ہے ماضی سے کچھ سبق حاصل نہیں کیا گیا،ملکی مفاد کیلئے ٹیبل پر بیٹھ کر ملک کی بات کرنے کی پہلے دن سے بات کر رہے ہیں۔ جمعیت علما اسلام (ف)نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں الیکشن نتائج کو پی ڈی ایم کے اجلاس میں اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔ جمعیت علما اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ گلگت بلتستان میں ایک بار پھر 2018 کی تاریخ کو دہرایا گیا۔

Back to top button