پاکستانفیچرڈ پوسٹ

گلگت بلتستان الیکشن کے انتخابی نتائج راتوں رات کیسے تبدیل کر دیئے گئے؟ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تمام پول کھول کر رکھ دیا

جب وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان حکومت کے انتخابات کے اختیارات واپس لے کر انہیں خود فیصلے کرنے سے روک دیا تھا

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تمام پول کھولتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان الیکشن کے انتخابی نتائج کو راتوں رات تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عوام کی امانت یعنی ووٹ میں خیانت ہوئی جو پاکستان کے لیے خوش آئند بات نہیں ہے ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انتخابات میں مداخلت کا عمل اور قبل از انتخابات دھاندلی اڑھائی سال پہلے ہی شروع ہوگئی تھی جب وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان حکومت کے انتخابات کے اختیارات واپس لے کر انہیں خود فیصلے کرنے سے روک دیا تھا، علاوہ ازیں ترقیاتی کام، فنڈز کا اجرا روک دیا گیا اور انتخابات سے 4 ماہ قبل ہی تمام کاموں پر پابندی عائد کردی گئی۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس کے بعد ایک عبوری نظام تشکیل دیا گیا جس میں مشاورت شامل نہیں تھی اور جو وزرا اور مشیر اس کا حصہ بنے وہ روز اول سے ہی انتخابات پر اثر انداز ہوتے رہے اور آخری دن تک مہم میں حصہ لینے کے ساتھ امیداواروں کی مدد یا مخالفت کرتے رہے انہوں نے کہا کہ بدنصیبی ہے کہ عبوری نظام سے جو غیر جانبداری کی توقع ہوتی ہے اس کی خلاف ورزی ہوئی.

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن)کے 6 وزرا اور اسپیکر کو توڑا گیا اور انہیں دوسری جماعت کے ٹکٹ دیے گئے جہاں سے انہوں نے الیکشن لڑا، ہمارے امیدواروں کو ہرانے کے لیے بڑے سائنٹفک طریقے سے امیدوار کھڑے کیے گئے جو چند سو ووٹ لے کر انہیں ہرانے کے لیے استعمال ہوئے۔ راہنما مسلم لیگ (ن)نے کہا کہ انتخابات 15 اگست کو ہونے تھے انہیں اس لیے ملتوی کیا گیا کہ دھاندلی کے لیے وقت مل سکے اور 3 ماہ بعد جب انتخابات ہوئے تو اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں انہوں نے کہا کہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، وفاقی وزرا کی بڑی تعداد نے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر امور کشمیر جو براہِ راست حکومت گلگت بلتستان کے ذمہ دار ہوتے ہیں انتخابی مہم کے پہلے دن سے آخری دن تک وہاں موجود رہے اور ہمارے تخمینے کے مطابق 200 ارب روپے کے وعدے کیے گئے جو سب جانتے ہیں کہ پورے نہیں ہوں گے لیکن انتخابات میں یہ حربے استعمال کیے گئے جو مکمل طور پر انتخابی اصولوں اور روح کے منافی ہیں۔ راہنما مسلم لیگ (ن)نے کہا کہ انتخابات میں وفاقی وسائل استعمال کیے گئے، ہمیں ووٹ خریدنے کی بھی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں، پوسٹل بیلٹس کا آج تک علم نہیں کہ کتنے جاری کیے گئے اور کسے جاری کیے گئے انہوں نے کہا کہ بدنصیبی ہے کہ ہم نے 2 سال کے عرصے میں کچھ نہیں سیکھا اور آج پھر ہم ایک غیر نمائندہ حکومت گلگت بلتستان پر مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ابھی تک جو حقیقت سامنے آئی اس میں مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے تاریخی قسم کی ڈیویلپمنٹ کی، جلسوں کا حجم اور جوش جذبہ سب لوگ جانتے ہیں اور جو تنائج آئے وہ بھی آپ کے سامنے ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ گلگت بلتستان انتخابات میں کوئی جماعت اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں رہی اور آزاد امیدواروں کے ذریعے حکومت بنانے کی کوشش کی جائے گی، ایسی حکومتیں جو لوگوں کو لالچ دے کر اور ڈرا دھمکا کر بنائی جاتی ہیں وہ کبھی عوام کے مسائل حل نہیں کرتیں. انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تمام حربوں کے باوجود تحریک انصاف کے وہ افراد جن کی کوئی انتخابی مہم نہیں تھی، جنہیں کوئی جانتا تک نہیں تھا، وہ لوگ کامیاب ہوئے لیکن اکثریت حاصل نہیں کرسکے انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ اپنی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے وفاقی حکومت میں موجود جماعت کو ووٹ دیا ہے لیکن اس مرتبہ یہ تاثر بالکل نہیں تھا اور وہاں وفاقی حکومت کی مداخلت کے باوجود وفاقی حکومت کا ووٹ نہیں تھا کیوں کہ وہاں کے عوام بھی پاکستانی عوام کی طرح عمران خان کے ٹولے سے تنگ ہیں.

متعلقہ خبریں