پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ملک میں قبضہ مافیا کیوں مضبوط ہو رہا ہے اور مظلوم کس حال میں ہیں؟ صحافی انصار عباسی کا تشویشناک انکشاف سامنے آگیا

حکومت کو پولیس، محکمہ مال اور ہاسنگ سوسائٹیوں کو کرپشن فری بنانے کی ضرورت ہے تو عدلیہ کو سٹے آرڈرز کی پالیسی پر ضرور غور کرنا چاہیے

سینئر صحافی و کالم نگار انصار عباسی نے تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں قبضہ مافیا مضبوط سے مضبوط تر ہو رہاہے کیونکہ اس میں عدلیہ کا بہت اہم کردار ہے۔

حالیہ دنوں میں اخبارات میں شائع ہونے والی عدلیہ کے متعلق دو خبریں بہت اہمیت کی حامل ہیں جن پر محترم چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو نوٹس لینا چاہیے۔ ایک خبر کا تعلق تو پنجاب کی ماتحت عدلیہ کے ججوں کی وکلا حضرات کے ہاتھوں ہراسگی سے ہے جبکہ دوسری خبر کا تعلق عدالتوں کی طرف سے جاری کیے جانے والے ان سٹے آرڈرز (حکم امتناہی)سے ہے جس کی وجہ سے ہزاروں نہیں لاکھوں پاکستانیوں کی زمینوں اور دوسری پراپرٹیز سالہا سال مقدمات میں الجھی رہتی ہیں جس کا سب سے بڑا فائدہ قبضہ مافیا یا لینڈ مافیا کو ہوتا ہے۔

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا ذکر عمران خان نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کیا اور اپنے بہنوئی کے پلاٹ پر مبینہ مافیا کے قبضہ کا ذکر کرتے ہوئے خود کو بحیثیت وزیر اعظم بھی بے بس پایا۔ جب میری وزیر اعظم کے بہنوئی سے بات ہوئی تو جہاں وہ پولیس، محکمہ مال اور پرائیویٹ ہاسنگ سوسائیٹیوں کی کرپشن سے نالاں نظر آئے تو وہاں ان کی ایک بڑی شکایت یہ تھی کہ عدالتوں کی طرف سے دیے جانے والے سٹے آرڈرز سے قبضہ مافیا بہت فائدہ اٹھاتا ہے۔

اگر حکومت کو پولیس، محکمہ مال اور ہاسنگ سوسائیٹیوں کو کرپشن فری بنانے کی ضرورت ہے تو عدلیہ کو سٹے آرڈرز کی پالیسی پر ضرور غور کرنا چاہیے کیوں کہ اکثر ان سٹے آرڈرز کا فائدہ ظالم اٹھاتا ہے اور نقصان مظلوم کا ہی ہو رہا ہوتا ہے۔ میں نے بھی سی ڈی اے کا کمرشل ریٹس پر پارک اینکلیو میں 2011 میں ایک پلاٹ خریدا جو 2013 میں مجھے ملنا چاہیے تھا لیکن نو سال گزرنے کے بعد آج بھی سی ڈی اے والے کہتے ہیں کہ سٹے آرڈر ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

متعلقہ خبریں