پاکستانفیچرڈ پوسٹ

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیسی ہے؟ اختلافات کیوں پیدا ہوئے؟ سچ سامنے آگیا

اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ ریاستی اداروں کی طرف سے وزیراعلیٰ بزکش کی کارکردگی پر اعتراضات اٹھا کر انہیں رخصت کرنے کو کہا گیا

وزیراعظم عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیسی ہے؟ اور ان کے درمیان اختلافات کیوں پیدا ہوئے اس حوالے بڑا سچ سامنے آگیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ مجموعی صورتحال یہ ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کا ہیولا کچھ اِس طرح سے بن کے نکلا ہے کہ اگر اِس میں سے ایک اینٹ نکالتے ہیں تو سارا نظام گرنے لگے گا۔ اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ ریاستی اداروں کی طرف سے وزیراعلیٰ بزکش کی کارکردگی پر اعتراضات اٹھا کر انہیں رخصت کرنے کو کہا گیامگر بڑے خان صاحب نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا۔ شنید یہ ہے کہ کابینہ کے اندر ردوبدل اور گورننس کے بارے میں اہم مشوروں کو بھی مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ریاستی اداروں کو خدشہ ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کے ہیولے کو ہلکا سا دھچکا بھی لگا تو نظام کا چلنا مشکل ہو جائے گا تاہم افواہیں بھی زوروں پر ہیں کہ مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کے درمیان اختلافات پھر سے بڑھ گئے ہیں۔ ن لیگ چاہتی ہے کہ وہ مریم نواز کو چودھری شجاعت کی عیادت کے لئے بھیج کر حکمران اتحاد میں اختلافات کی خلیج کو وسیع کرے اور اپنی طرف سے خیر سگالی کا عندیہ دے، دوسری طرف ق لیگ بہت محتاط ہے کیونکہ چودھری پرویز الہی کسی واضح سگنل کے بغیر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھائیں گے، انہیں ماضی میں کئی تلخ تجربات ہو چکے ہیں۔ جب انہوں نے آدھے پیغام کو پورا سگنل جانا اور بعد میں وہ معاملہ الٹ گیا۔ دوسری طرف سب غیرسیاسی لوگ بڑے خان صاحب کے ردِعمل سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔ پنجاب میں بڑے خان صاحب کی مرضی کے خلاف چھیڑ چھاڑ ہوئی تو خان صاحب لازما جوابی ردِعمل کا اظہار کریں گے۔ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ پنجاب میں تبدیلی لاتے لاتے پورا نظام دھڑام سے نیچے گر جائے۔ سب تبدیلی کے خواہاں ضرور ہیں مگر یہ نہیں چاہتے کہ اِس کے نتیجے میں پورے سیاسی ہیولے کو نقصان پہنچے۔

Back to top button