پاکستانفیچرڈ پوسٹ

گیارہ سیاسی جماعتوں کا لانگ مارچ اور دھرنا حکومت کیلئے کتنا بھاری ثابت ہوگا؟ سینئر تجزیہ نگار نے سچ سامنے رکھ دیا

اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سے پہلے پہلے تیسرے فریق کو متحرک ہو جانا چاہئے تاکہ لانگ مارچ پہلے ہی روک دیا جائے

گیارہ سیاسی جماعتوں کا لانگ مارچ اور دھرنا حکومت کے لئے کتنا بھاری ثابت ہوگا؟ اس حوالے سینئر تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے سے سچ سامنے رکھ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ سب کونظر آ رہا ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسوں کا نیا اور خطرناک دور شروع ہو گیا ہے جس کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا مرحلہ ہوگا، ظاہر ہے کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سے پہلے پہلے تیسرے فریق کو متحرک ہو جانا چاہئے تاکہ لانگ مارچ جیسا خطرناک کام ہونے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔ حکومت اگر اپنی طاقت اور انتظامی ہتھکنڈوں سے روکنے کی کوشش کرتی ہے تو اِس سے پورے ملک میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوگا اور اگر فری ہینڈ دے دیتی ہے (جس کا امکان بہت کم ہے)تو دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان کا شدید مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ حکومت کیلئے تو تحریکِ لبیک کا لانگ مارچ روکنا مشکل ہو گیا تھا۔ 11سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا دھرنا تو اور بھی بھاری ہوگا۔

اگر کسی نے ملک کے نظام کو بچانا ہے، جمہوریت کو قائم رکھنا ہے، موجودہ حکومت کے مینڈیٹ کو چلانا ہے، اپوزیشن کے مطالبات کو اہمیت دینی ہے، ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنا ہے تو پھر یہی وہ وقت ہے جس میں کوئی کردار ادا کیا جاناچاہئے۔ اِس وقت زمینی صورتحال یہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کو اگلے انتخابات کے لئے اصلاحات کی پیشکش کر رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بہ نفسِ نفیس یہ بیان دیا ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لئے تیار ہیں لیکن وزیراعظم کی یہ پیشکش ایک طرح سے اپوزیشن کا منہ چڑانے کے مترادف ہے کیونکہ جب بھی بامعنی مذاکرات کا ڈول ڈالا جاتا ہے، اس کے لئے سازگار ماحول بنایا جاتا ہے، اعتماد سازی کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں، درمیان میں لوگ ڈالے جاتے ہیں جو فریقین سے مذاکرات کرکے قابلِ عمل اور اتفاقِ رائے والا حل نکالتے ہیں۔ وزیراعظم نے ایسا کچھ نہیں کیا بس خالی مذاکرات کی دعوت دی، جسے ظاہر ہے اپوزیشن نے فورامسترد کر دیا۔

Back to top button