پاکستان

بچوں اور خواتین سے جنسی زیادتی، وزیراعظم عمران خان نے ایسا قدم اٹھالیا کہ زیادتی کرنے والے مجرموں پر خوف سے کپکپی طاری ہوگئی

وفاقی حکومت نے بچوں اور خواتین سے زیادتی کرنیوالوں کے خلاف آرڈیننس لانے کا فیصلہ کرلیا ہے

وزیراعظم عمران خان نے بچوں اور خواتین سے بڑھتی ہوئی جنسی زیادتی کے واقعات پر ایسا قدم اٹھا لیا ہے کہ زیادتی کرنے والے مجرموں پر خوف سے کپکپی طاری ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے فروغ نسیم، شیریں مزاری اور بیرسٹر علی ظفر نے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے زیادتی کے مجرموں کیلئے آرڈیننس لانیکی ہدایت کی تاہم وزیراعظم کا قانون سازی کے لیے مزید وقت دینے سے انکار کردیا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی واضح ہدایت کی روشنی میں قانون سازی کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بچوں اور خواتین سے زیادتی کے مجرموں کے خلاف سخت قانون لایا جائے، ایسا قانون لائیں کہ متاثرہ خواتین اور بچے بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کرواسکیں، قانون میں متاثرہ خواتین اور بچوں کی پرائیویسی کے تحفظ کا خاص خیال رکھا جائے کیوں کہ ہم نے اپنے معاشرے کو محفوظ ماحول دینا ہے اس لیے دن رات کام کریں اور معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند عرصے سے پاکستان میں جنسی زیادتی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں ہر روز ملک کے کسی نہ کسی حصے سے ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں اس بارے میں سرکاری اعدادوشمار کہتے ہیں کہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر جنسی زیادتی کے 11 کیسز ہوتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے جاری سرکاری رپورٹ کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں گزشتہ 6 سالوں کے عرصے کے دوران جنسی زیادتی کے 22 ہزار سے زائد واقعات پولیس میں رپورٹ ہوئے، جن میں سے صرف 77 ملزمان کو ہی سزا سنائی گئی جو کہ صرف 0.3 فیصد بنتی ہے، پاکستان میں سال 2015 سے اب تک مجموعی طور پر زیادتی کے 22 ہزار 37 کیسز کا اندراج ہوا، جن میں سے 4 ہزار 60 مقدمات اس وقت مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جب کہ مجموعی طور پر صرف 77 مجرموں کو سزائیں سنائی گئیں۔

Back to top button