پاکستان

آصفہ بھٹو کس مزاج کی مالک؟ دوستوں اور دشمنوں سے کیسے پیش آتی ہیں؟ سینئر صحافی حامد میر نے حکومت کو خبردار کر دیا

آصفہ اپنی والدہ کی طرح خطرناک ترین دشمن کی گولیوں اور بموں کے سامنے ڈٹ جانے والی طبیعت کی مالک ہیں

سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو کس مزاج کی مالک ہیں اور وہ دوستوں اور دشمنوں سے کیسے پیش آتی ہیں اس حوالے سے سینئر صحافی حامد میر نے بڑا انکشاف کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و کالم نگار حامد میر نے اپنے حالیہ کالم میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آصفہ بھٹو کو سیاسی میدان میں اتارنے کے فیصلے پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آصفہ نے ہمیشہ اپنے آپ کو عملی سیاست سے علیحدہ رکھا ہے، تعلیم مکمل کرنے کے بعد بختاور خاندان کی زمینوں کی دیکھ بھال اور کاروباری معاملات کی نگرانی کرتی ہیں، آصفہ کا زیادہ وقت اپنے والد کے ساتھ گزرتا ہے، وہ کبھی اپنے والد کو جوتے پہنا رہی ہوتی ہیں اور کبھی انہیں سگریٹ پینے سے روکتی نظر آتی ہیں۔ آصف زرداری جب کسی کی نہیں مانتے تو پھر آصفہ سے سفارش کروائی جاتی ہے،وہ اپنے والد اور بھائی دونوں کی لاڈلی ہیں لیکن والد اور بھائی نے فیصلہ کیا کہ ملتان کے جلسے میں آصفہ ضرور شرکت کریں گی۔

حامد میر نے کہا کہ یہ بات یاد رکھی جائے کہ بلاول کی شخصیت اپنی والدہ اور والد دونوں کے اوصاف کا امتزاج ہے، بلاول کبھی سخت بات کرتے ہیں اور کبھی اپنے والد کی طرح مفاہمانہ رویہ بھی اختیار کر لیتے ہیں لیکن آصفہ اپنی والدہ کی طرح خطرناک ترین دشمن کی گولیوں اور بموں کے سامنے ڈٹ جانے والی طبیعت کی مالک ہیں۔ انہوں نے بچپن سے اپنی والدہ اور والد کو سازشوں کے حصار میں دیکھا ہے جس کی وجہ سے اہم سیاسی معاملات پر ان کا مقف قدرے جارحانہ ہے اور اِسی لئے وہ ابھی تک سیاست سے پرہیز کرتی رہی ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ آصفہ بھٹو اپنے والد اور بھائی کی مرضی سے سیاست میں آ رہی ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ والد اور بھائی مفاہمت کو خیر باد کہہ رہے ہیں اور مزاحمت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ آصف علی زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کو بلاول کے حوالے کر چکے ہیں اور بلاول نے پچھلے کچھ عرصے میں مفاہمت کا تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے۔ آصفہ کو اپنی معاونت کے لیے سیاست میں لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جارحانہ سیاست کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں