پاکستان

حکومت میں رہنے یا نہ رہنے کے متعلق خالد مقبول نے کس سے مشورہ مانگ لیا’ آج کی بڑی خبر

تمام تحفظات اور لائحہ عمل حکومت کو بتاکر عوام کے پاس جارہے ہیں، پہلا مطالبہ مردم شماری کی درستی ہے

حکومت میں رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول نے کس سے مشورہ مانگ لیا آج کی سب سے بڑی خبر منظر عام پر آ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پارٹی سربراہ خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم عوام کے پاس جاکر اگلے لائحہ عمل کیلئے رائے لے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام تحفظات اور لائحہ عمل حکومت کو بتاکر عوام کے پاس جارہے ہیں، پہلا مطالبہ مردم شماری کی درستی ہے، کابینہ میں شامل ہونا ہمارا مطالبہ کبھی نہیں تھا۔

گورنر سندھ نے مردم شماری سے متعلق ایم کیو ایم کا مطالبہ درست قرار دیدیا۔ ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی کی مردم شماری میں کم آبادی ظاہر کرنے پر عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے 2017 کی مردم شماری کو سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ بدترین زیادتی قرار دے دیا، حکومت کو اٹھاویں ترمیم پر نظرثانی کا مشورہ بھی دے ڈالا۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادر آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ملک میں سندھ کے شہری علاقوں کےساتھ زیادتی کی مثال 2017 کی مردم شماری ہے۔ وقت آگیا ہے کہ معاملے کو لے کر عوام میں جائیں۔

ایم کیو ایم سربراہ نے مردم شماری کے ساتھ اٹھارویں آئینی ترمین کو بھی سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ زیادتی قرار دے کر قبل از وقت مردم شماری اور ترمیم پر نظرثانی کا بھی مشورہ دیا ہے۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ اگر 2018 کے انتخابات میں انجینیئرنگ نہ ہوتی تو کراچی سے کسی اور جماعت کو ایک ووٹ نہ ملتا۔ ایم کیوایم نے ایک بار پھر لاپتہ کارکنان کی بازیابی اور مقتول رہنما علی رضا عابدی کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ دہرایا۔

متعلقہ خبریں