پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پی ڈی ایم کےاختلافات ختم نا ہوئےتومریم نوازکونسا قدم اُٹھائیں گی؟

پی ڈی ایم کےاختلافات ختم نا ہوئےتومریم نوازکونسا قدم اُٹھائیں گی؟اپوزیشن جماعتوں اورحکومت کا نیا امتحان شروع ہوگیا،

پی ڈی ایم کےاختلافات ختم نا ہوئےتومریم نوازکونسا قدم اُٹھائیں گی؟اپوزیشن جماعتوں اورحکومت کا نیا امتحان شروع ہوگیا،کھوج نیوزکے مطابق معروف صحافی نجم سیٹھی کے مطابق پی ڈی ایم میں چاہےجتنےبھی اختلافات ہوں، مریم لانگ مارچ ضرورکریں گی، قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ نہ لانگ مارچ ہوگا نہ استعفے دیے جائیں گے، لیکن میری رائے میں نوازشریف اوران کی صاحبزادی بڑا قدم اٹھانے کا حتمی فیصلہ کرچکے۔ نجم سیٹھیکا کہنا ہے کہ یہ تاثرزورپکڑ رہا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل پیپلزپارٹی اورن لیگ کے لوگ پارلیمنٹ سے مستعفی نہیں ہونا چاہتے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کی یہ بھی یہی رائے ہے کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا مطلب تحریک انصاف کو واک اوور دینا ہے، لیکن اس بات کے باوجود لگتا یہی ہے کہ مریم نواز اور نواز شریف استفے دینے اور لانگ مارچ کرنے کے فیصلے سے اب پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ پی ڈی ایم میں جتنی بجی دراڑیں پڑ جائیں، مریم نواز اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ضرور کریں گی۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی جمعہ کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کوئی مذاکرات نہیں کیے جائینگے۔

ٹویٹرپراپنےبیان میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نوازنےکہا کہ پی ڈی ایم کا فیصلہ ہےکہ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد پوری طرح اس موقف کےساتھ کھڑے ہیں اس لیے کسی طرح کے مِنی یا گرینڈ ڈائیلاگ کی باتیں بے معنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس جعلی اور کٹھ پتلی حکومت کو کسی طرح کا این آر او نہیں ملے گا، یہ پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ جبکہ نواز شریف نے بھی ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ حکومت، سلیکٹرزکواین آراو دلوانے کیلئے چھوڑا گیا ۔ یہ شوشہ ووٹ چوری کرکے عمران خان کو لانے والے چھوڑ رہے ہیں، کسی بھی ڈائیلاگ کا حصہ بننا اپنے مقدس مقصد سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہوگا۔

 

متعلقہ خبریں