پاکستان

حکومت نے اپنے گارڈ فاڈر آئی ایم ایف کے سامنے سرنڈر کر دیا‘ عوام کو نئے سال کا تحفہ دیدیا، گھر گھر میں صف ماتم بچھ گئی

نئے سال کی آمد کا تحفہ، حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، فیصلہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر کیا گیا

حکومت نے اپنے گارڈ فاڈر آئی ایم ایف کے سامنے سرنڈر کر دیا جس کے بعد حکومت نے عوام کو نئے سال کا تحفہ بھی دے دیا اور گھر گھر میں صف ماتم بچھ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے مطالبے کے سامنے سرنڈر کرتے ہوئے بجلی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے تمام گھریلو صارفین کیلئے بجلی کے فی یونٹ قیمت میں 18پیسے کا اضافہ کردیا ہے۔ وزارت توانائی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق حالیہ اضافے کے بعد فی یونٹ قیمت 13روپے 35پیسے سے بڑھ کر 13روپے 53پیسے ہو گئی ہے۔ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے 15پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے مزید 3 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق قیمتوں میں اضافے کا اطلاق رواں ماہ سے ہو گا جس کا اطلاق آئندہ 10 ماہ تک کیلئے ہوگا۔ دوسری جانب نیپرا نے بجلی کی تین سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کے ٹیرف میں اضافے کر دیا،گوجرانوالہ، ملتان، سکھر کے صارفین سے 916 ارب روپے وصول کرنے کا پروانہ جاری کیا گیا ہے۔ نیپرا کے فیصلے کے اطلاق کی حتمی منظوری حکومت دے گی۔ حکام کے مطابق نیپرا کے فیصلے کی روشنی میں بجلی کا یونیفارم ٹیرف لاگو کیا جائے گا۔ ملتان ریجن کے صارفین سے 553 ارب روپے وصول کرنے کی منظوری دی دی گئی۔ میپکو کا مالی سال 2019-20 کا اوسط ٹیرف 16.52 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔ مپیکو کا مالی سال 2018-19 کا اوسط ٹیرف 16.88 روپے فی یونٹ اور گیپکو کا مالی سال 2019-20 کا اوسط ٹیرف 15.69 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔ نیپرا کے مطابق گیپکو صارفین سے مجموعی طور پر 334 ارب روپے وصولی کی منظوری دے دی گئی۔ سکھر کے صارفین سے ڈسٹریبیوشن ٹیرف کی مد میں 16 ارب سے زائد وصول ہوں گے۔

متعلقہ خبریں