پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ایک دن میں دو ہائی ولٹیج جھٹکے، مولانا فضل الرحمن کی جماعت میں بغاوت زور پکڑ گئی، ملکی سیاست کو شدید خطرات لاحق ہو گئے

پہلا جھٹکا انھیں اس وقت لگا جب مولانا شیرانی نے جبکہ دوسرا جھٹکا پیپلز پارٹی کی سی ای سی کے اجلاس میں استعفوں کی مخالفت پر ملا

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ایک دن میں دو ہائی ولٹیج جھٹکے لگنے کے بعد ان کی جماعت میں بغاوت زور پکڑ گئی جس کے بعد ملکی سیاست کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمن کو پہلا جھٹکا انھیں اس وقت لگا جب مولانا شیرانی نے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کو جے یو آئی سے الگ کرنے کا اعلان کیا اور دوسرا سیاسی صدمہ انھیں اس وقت پہنچا جب پیپلز پارٹی کی سی ای سی کے اجلاس میں شرکا کی اکثریت نے اسمبلی سے استعفوں کی مخالفت کردی۔ مولانا فضل الرحمن پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہے اس دوران انھوں نے ملکی سیاست میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ کئی سیاسی معرکے بھی انجام دیئے جن میں ان کا دورہ ہندوستان بھی شامل ہے۔

جہاں اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے ان کی ملاقات اور بھارتی میڈیا سے ان کی گفتگو کو اسلام آباد اور دہلی کے تعلقات کے حوالے سے وسیع تناظر میں دیکھا گیا۔ لیکن منگل کو ماضی میں ان کے معتمدین خاصنے مولانا شیرانی کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں ان سے طویل سیاسی رفاقتیں توڑتے ہوئینہ صرف ان سے منہ پھیر لیا بلکہ اجلاس کے دوران باغیانہ اور جارحانہ لب و لہجے میں ان کے بارے میں گفتگو کی۔ جس کی تفصیلات میڈیا پر دیکھنے کے بعد مولانا مشتعل نہ سہی لیکن آزردہ ضرور ہوئے ہوں گے۔ لیکن ملکی سطح پر ان کی سیاسی مقبولیت اور اہل سنت کے مدرسہ دیوبند کے پیروکاروں کی ان سے مسلکی وابستگی اور عقیدت بدستور قائم رہے گی۔

متعلقہ خبریں