پاکستان

لیگی رہنماء خواجہ آصف کی گرفتاری کا فیصلہ کہاں ہوا اور کس نے کیا؟ صحافی حامد میر کے انکشاف نے شکوک و شبہات کھڑے کر دیئے

محمد علی درانی کی شہباز شریف سے ملاقات پر ردعمل کیا‘ اب لوگ پوچھ رہے ہیں کہ خواجہ صاحب کی گرفتاری کس کی مرضی سے ہوئی ہے؟

مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف کی گرفتاری کا فیصلہ کہاں ہوا اور کس نے کیا؟ سینئر صحافی حامد کے انکشافات نے قومی سیاست میں شکوک و شبہات کھڑے کر دیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کی گرفتاری پر حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ خواجہ محمد آصف نے اپنی گرفتاری سے پہلے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ محمد علی درانی کی شہباز شریف سے ملاقات حکومت کی مرضی سے نہیں بلکہ مالکوں کی مرضی سے ہوئی، اب لوگ پوچھ رہے ہیں کہ خواجہ صاحب کی گرفتاری کس کی مرضی سے ہوئی ہے؟۔ حامد میر نے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کا بیان بھی ری ٹویٹ کیا جس میں میاں نواز شریف نے خواجہ آصف کی گرفتاری پر ردعمل کااظہار کرتے کہا کہ خواجہ آصف کی گرفتاری سلیکٹرز اور سلیکٹڈ کے گٹھ جوڑ کا انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے، ایسی بھونڈی حرکتوں سے حکومتی بوکھلاہٹ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن ان حرکتوں سے یہ اپنے انجام کو مزید قریب لا رہے ہیں، اندھے سیاسی انتقام کے دن گنے جا چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں