پاکستانفیچرڈ پوسٹ

مریم نواز کے کہنے پر مسلم لیگ ن کے کون کون سے اراکین اسمبلی استعفے دینے پر تیار ہیں اور کس کس نے انکار کیا؟ بڑا دعویٰ کر دیا گیا

مسلم لیگ(ن)میں واضح دراڑ اور گروپ بندی موجود ہے اور سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم بی بی کے کہنے پر کوئی مسلم لیگی استعفے نہیں دے گا

مریم نواز کے کہنے پر مسلم لیگ ن کے کون کون سے اراکین اسمبلی استعفے دینے پر تیار ہیں اور کس کس نے انکار کیا اس حوالہ سے غلام سرور خان نے بڑا دعویٰ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر ہوابازی نے کہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میں تمام جماعتیں ایک صفحے پر بھی نہیں ہیں، پی ڈی ایم میں ایک بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت ہے اور وہ کبھی استعفی نہیں دے گی جبکہ مسلم لیگ کا بھی ایک بہت بڑا دھڑا استعفی نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم بی بی کے کہنے پر کوئی مسلم لیگی استعفے نہیں دے گا، مسلم لیگ کے اندر بھی ایک واضح دراڑ اور گروپ بندی موجود ہے، جمہوریت پر یقین رکھنے والے واضح اور نمایاں سوچ رکھنے والے لوگ ان کی اکثریت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیسری بڑی جماعت ولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام ہے، خدا کی شان دیکھیں کہ پی ڈی ایم کے چیئرمین کے ساتھ ان کی اپنی جماعت نہں کھڑی اور مولانا شیرانی، حافظ حسین احمد اور اراکین پارلیمنٹ سمیت جمعیت علمائے اسلام(ف)کے اہم اراکین کا گروپ نکھر کر سامنے آ گیا ہے اور انہوں نے اہنی جماعت کا اصل نام جمعیت علمائے اسلام پاکستان رکھ دیا ہے۔

وزیر ہوابازی نے کہا کہ درحقیقت مولانا فضل الرحمن کی جمعیت دراصل جمعیت علمائے اسلام ہند کی ایک ذیلی شاخ ہے اور جو پالیسی ہندوستان کی ہو گی وہی جمعیت علمائے اسلام ہند کی ہو گی اور وہی پالیسی مولانا فضل الرحمن کی ہو گی، اس سے اختلاف کرتے ہوئے محب وطن پاکستانی نکھر کر سامنے آ گئے ہیں اور انہوں نے قائدانہ کردار لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھر چکا ہے، کل تک میں کہہ رہا تھا کہ پیپلز پارٹی استعفے نہیں گی اور مسلم لیگ(ن)کا ایک دھڑا استعفیٰ نہیں دے لیکن اب میں کہتا ہوں کہ پی ڈی ایم استعفے نہیں دے گی اور مولانا کی جمعیت علمائے اسلام بھی استعفے نہیں دے گی۔

متعلقہ خبریں