پاکستانفیچرڈ پوسٹ

دہشت گردی کے خلاف فوج کا ساتھ کس نے دیا اور کس نے مخالفت کی؟ ہوش اڑا دینے والے حقائق سامنے آگئے

اس جنگ کو پاکستانی فوج دنیا کے سامنے اپنے کارنامے کے طور پر پیش کرتی ہے اور چونکہ یہ امریکہ، القاعدہ اور دنیا کی شروع کردہ جنگ تھی

دہشت گردی کے خلاف فوج کے ساتھ کس نے دیا اور کس کس نے مخالف کی ہے اس حوالے سے ہوش اڑا دینے والے حقائق سامنے آگئے ہیں جس نے تہلکہ مچا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ کا فیصلہ درست تھا یا غلط،لیکن وہ کیا تھا فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے۔ یہ دنیا کی تاریخ کی مشکل ترین (چونکہ اپنی سرزمین پر اپنے لوگوں کے خلاف لڑنی پڑی)اور پاکستان کی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے۔ اس جنگ کو پاکستانی فوج دنیا کے سامنے اپنے کارنامے کے طور پر پیش کرتی ہے اور چونکہ یہ امریکہ، القاعدہ اور دنیا کی شروع کردہ جنگ تھی، جس میں پاکستان کودنیا کی خاطر شریک ہوکر میدان کارزار بنناپڑا، اس لئے ہماری ڈپلومیسی میں اسے بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ امریکہ، یورپ اور باقی دنیا کے سامنے پاکستان کا کیس یہی ہے کہ وہ اس جنگ میں پاکستانی فوج اور قوم کی قربانیوں کو تسلیم کرے۔ لیکن عمران خان صاحب، جنہیں اب وزیراعظم کے منصب سے سرفراز کیا گیا ہے، بڑے فخر سیعالمی فورمز پر بھی کہتے ہیں کہ وہ اس جنگ کے خلاف تھے اور ہیں۔ اپنی کتاب میں انہوں نے اس جنگ کی جگہ جگہ پرزور مذمت کی ہے۔ کہیں لکھا ہے کہ یہ جنگ امریکی ڈالروں کے لئے لڑی گئی۔ کہیں لکھا ہے کہ امریکیوں کو خوش کرنے کے لئے فوج نے اپنے لوگوں پر بمباری کی۔ کہیں لکھا ہے کہ فوج کے مظالم اور بمباریوں کی وجہ سے پاکستان میں طالبان پیدا ہوئے۔

دوسری طرف اس جنگ میں فوج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی نے ہزاروں کارکنوں اور سینکڑوں رہنماؤں کی قربانی دی۔ اسفندیارولی خان سے لے کر ضلعی عہدیداروں تک نے خودکش حملوں کا سامنا کیا لیکن عمران خان کہہ رہے ہیں کہ فوج ان کے ساتھ نہیں بلکہ میرے ساتھ ہے اور وہ الزام لگارہے ہیں کہ پی ڈی ایم کا حصہ ہونے کے ناطے اے این پی بھی فوج کو بدنام کرنے والوں میں شامل ہے۔ ٹی ٹی پی کے ہاتھوں پیپلز پارٹی کی قائد بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں۔ پیپلزپارٹی اقتدار میں رہی یا اپوزیشن میں لیکن عمران خان کے برعکس اس جنگ میں فوج کی ہمنوا رہی تاہم اب عمران خان کہتے ہیں کہ فوج میرے ساتھ اور بقول ان کے پی ڈی ایم کا حصہ ہونے کے ناطے پی پی پی فوج کو بدنام اور کمزور کررہی ہے۔ میاں نواز پہلے گومگو کی کیفیت میں رہے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے اس جنگ کو اپنا لیا۔ فوج کو ہر طرح کے وسائل فراہم کئے اور مکمل آزادی دی۔ اتنی آزادی اور خودمختاری دی کہ ہم جیسے طالب علم معترض رہے۔ اس لئے ان کی جماعت کے شجاع خانزادہ جیسے کچھ لوگ بھی نشانہ بنے لیکن عمران خان کہتے ہیں کہ فوج میرے ساتھ ہے اور نون لیگ فوج کو انڈیا کے اشارے پر کمزور کررہی ہے۔

یہ عجیب تماشہ ہے کہ فوج جو جنگ لڑ چکی اور لڑ رہی ہیاور جس کو اپنا سب سے بڑا اعزاز سمجھتی ہے، اس جنگ میں اے این پی، پیپلز پارٹی، جے یو آئی، قومی وطن پارٹی اور مسلم لیگ (ن)وغیرہ اس کے شانہ بشانہ کھڑی تھیں اور کھڑی ہیں۔ اس جنگ میں عمران خان کل فوج کے ساتھ تھے اور نہ آج اس کا ذکر کرتے ہیں۔ اس جنگ میں جبکہ یہ سارے لیڈر اور ان کے اہل خانہ خودکش حملوں کا نشانہ بن رہے تھے، عمران خان جلسے کررہے تھے اور دھرنے دے رہے تھے۔ان کی جماعت کے کچھ لوگ ان کے ایما پر جان بخشی کے لئے طالبان کو بھتے دے رہے تھے۔شاید اس لئے ان کی طرف طالبان نے پتھر بھی نہیں پھینکا۔

متعلقہ خبریں