پاکستان

اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کیا کچھ ہو رہا ہے؟ کون کتنے پانی میں ہے؟ سینئر تجزیہ کار نے بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا

براہ راست مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے، وہ کسی سے بھی ہو سکتے ہیں، مذاکرات حیدری کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں

اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کیا کچھ ہو رہا ہے؟ کون کتنے پانی میں ہے؟ سینئر تجزیہ کار نے بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا جس کے بعد عوام پریشان ہو گئی۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار ظفر ہلالی نے کہا کہ اپوزیشن سے مذاکرات ہو رہے ہیں اور ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے، وہ کسی سے بھی ہو سکتے ہیں، مذاکرات حیدری کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں، جن سے مولانا پیغام بھیجتے ہیں ان سے بھی مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ انہی کے ساتھ مذاکرات ہوں۔ ظفر ہلالی نے کہا کہ بالفرض یہ تحریک مضبوط ہوتی اور یہ لوگ زیادہ سے زیادہ لوگ باہر نکال سکتے، ڈرا دھمکا سکتے، تو اس وقت ہمارے پاس تین آپشنز ہیں۔ ایک تو یہ کہ عمران خان کو ان کی مدت پوری کرنے دیں۔ دوسری آپشن یہ ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن کروائے جائیں اور تیسری آپشن ایمرجنسی نافذ کرنا ہے۔

ظفر ہلالی نے کہا کہ کوئی بھی غیر جمہوری کام نہیں چاہتا، بالخصوص ایمپائر غیر جمہوری کام کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی وبا کے اس دور میں مڈ ٹرم الیکشن کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مڈ ٹرم الیکشن مہنگے بھی پڑیں گے، ہماری معاشی صورتحال کمزور ہے، ایسے میں ہم مڈ ٹرم الیکشن افورڈ ہی نہیں کر سکتے کیونکہ ہمیں پیسہ بچانے کی ضرورت ہے اور ڈھائی سال کے بعد دوبارہ انتخابات کروانا مطلب معاشی طور پر ملک کو تباہ کرنا ہے۔ اس حوالے سے کافی پیچیدگیاں ہیں۔ ظفر ہلالی نے کہا کہ اگر اپوزیشن عمران خان کو پسند نہیں کرتی تو خدا کے واسطے تھوڑا تحمل رکھیں۔ ڈھائی سال گزر چکے ہیں، مزید ڈھائی سال کا عرصہ رہ گیا ہے، چھ ماہ تو الیکشن میں ہی گزر جائیں گے۔ اپوزیشن کو چاہئیے کہ موجودہ حکومت کو اپنا وقت پورا کرنے دیں۔

متعلقہ خبریں