پاکستان

تیل کی سمگلنگ کا انکشاف، حکومتی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی‘ وزیراعظم عمران خانے کونسا قدم اٹھا لیا؟ سب پتا چل گیا

ملک میں اسمگل شدہ تیل کی فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے گندے دھندے میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا

تیل کی سمگلنگ کا انکشاف ہونے کے بعد حکومتی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایسا کونسا قدم اٹھایا ہے سب پتا چل گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت انسداد اسمگلنگ اقدامات پر اعلی سطح اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اعلی سول اور عسکری حکام سمیت متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسمگل شدہ تیل کی خریدوفروخت پرمبنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں اسمگل شدہ تیل کی فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے گندے دھندے میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسمگل شدہ تیل کی فروخت سے معیشت کو سالانہ 150 ارب کا نقصان ہوا، ملک میں 2094 پیڑول پمپس اسمگل شدہ تیل کی فروخت میں ملوث نکلے۔ جس پر وزیراعظم عمران خان نے تیل اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے پیٹرول پمپ سیل، جائیدادیں ضبط، بھاری جرمانے، گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اسمگلنگ کی وجہ سے ملکی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، انسداد اسمگلنگ اقدامات سیحاصل رقم عوام کی فلاح پر خرچ کریں گے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ایک اجلاس کل بھی ہو گا جس کیلیے 9 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔ کل ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم ملکی امور پر غور اور فیصلے ہوں گے،وفاقی کابینہ اجلاس میں کورونا کے بڑھتے کیسز تدارک انتظامات پر بریفنگ دی جائے گی اور اجلاس میں 7 وزارتیں اور ڈویژنز کی سمریوں پر فیصلے اور بریفنگز ہوں گی جبکہ ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ کیتحت کی سماعت پر کابینہ کو بریفنگ دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں