پاکستانفیچرڈ پوسٹ

حکومت کی مخالفت کا کھیل، پیپلز پارٹی نے دفاعی پوزیشن کیوں اختیار کر لی؟ بدلے میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو کیا ملے گا؟ پتا چل گیا

پیپلز پارٹی استعفوں کا آپشن اس وقت تک استعمال نہیں کریگی جب تک اسے یقین نہ ہو کہ ان کے استعفوں سے سارا سیاسی ڈھانچہ مفلوج ہو جائیگا

حکومت کی مخالفت کے کھیل میں پیپلز پارٹی نے دفاعی پوزیشن کیوں اختیار کر لی اور بدلے میں سابق صدر آصف زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو کیا ملے گا سب پتا چل گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کو اِس فدائی حملے کے بدلے میں کیا ملے گا؟ یہ سوال بہت اہم ہے، ایک طرف تو ان کی سندھ میں حکومت جاتی رہے گی اور ان کی حکومت کی جگہ ان کے مخالفین آ کر بیٹھ جائیں گے جو انہیں اگلا الیکشن بھی جیتنے نہیں دیں گے۔ اس لئے پیپلز پارٹی استعفوں کا آپشن اس وقت تک استعمال نہیں کرے گی جب تک اسے یقین نہ ہو کہ ان کے استعفوں سے سارا سیاسی ڈھانچہ مفلوج ہو جائے گا اور اس کے بعد ضمنی انتخابات نہیں، عام انتخابات ہی ہوں گے۔ لانگ مارچ کی حکمت عملی میں اہم ترین وہ فضا ہوتی ہے جس میں لانگ مارچ کیا جاتا ہے۔ باوجود کوشش کے تحریک کے پہلے مرحلے میں وہ فضا نہیں بنی کہ ٹوٹی جوتی اور پھٹے کپڑوں والے سر پر کفن باندھ کر نکلیں اور اسلام آباد یا راولپنڈی میں جا کر آر یا پار کر کے آئیں۔

ایسی صورتحال بنانے کے لئے جس طرح کی گرما گرمی کی ضرورت ہے وہ ابھی پیدا نہیں ہو سکی۔ اپوزیشن کو اپنی حکمت عملی از سر نو ترتیب دیتے ہوئے سیاسی ماحول کے اندر ایسا تحرک لانا پڑے گا جس سے عام آدمی گھر سے باہر نکلے اور اسے یہ یقین بھی ہو کہ اس کے لانگ مارچ سے حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لانگ مارچ کے لئے اصل فورس تو پارٹی کارکن ہوتے ہیں، وہ ہی سردی گرمی اور بھوک پیاس برداشت کر کے کھلے میدان میں بیٹھ سکتے ہیں، اس لئے ان کارکنوں کو وہ جذبہ اور مستقبل کا خواب دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ تبدیلی کے لئے متحرک ہو سکیں۔

حالات کے تیور پڑھتے ہوئے یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ حکومت کے فورا گرنے یا عدم استحکام کا شکار ہونے کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے لیکن حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات کی خلیج گہری ہونے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت ڈیلیوری میں مکمل طور پر ناکام ہے، چینی کی رسد کا معاملہ ٹھیک ہوا ہے تو آٹا کم یاب ہو گیا ہے، آلو کا ریٹ کم ہوتا ہے تو پیاز کا دام بڑھ جاتا ہے، ملک کے حالات سنوارنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی تخلیقی آئیڈیاز یا ویژنری پروگرام نہیں ہیں، اسی لئے موجودہ حکومت کی گورننس پر سنجیدہ سوال اٹھتے رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں