پاکستان

وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کو ایک اورمحاذ پر بری طرح ناکامی کا سامناکرنا پڑ گیا جس کے بعد وہ کہیں بھی منہ دکھانے کے قابل نا رہے؟ بریکنگ نیوز

مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان خود دھرنے میں تشریف لائیں پھر ہم احتجاج ختم کریں گے

وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید اور سانحہ مچھ میں جاں بحق ہونے والے ہزارہ برادری کے کان کنوں کے لواحقین کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے جس کے بعد وہ کہیں بھی منہ دکھانے کے قابل نا رہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم خود دھرنے میں تشریف لائیں پھر ہم احتجاج ختم کریں گے، وزیرداخلہ شیخ رشید نے مظاہرین سے کہا ہے کہ چند روز میں آپ کی ملاقات وزیراعظم سے کراں گا، سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کرائیں گیا ور مکمل سکیورٹی دیں گے، بلوچستان حکومت کے مستعفی ہونے کے علاوہ آپ کے تمام مطالبات مانتے ہیں، آپ شہدا کی لاشوں کی تدفین کر دیں۔ وزیرداخلہ نے لواحقین کو فی کس 25 لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی کیا لیکن مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک وزیراعظم نہیں آئیں گے دھرنا جاری رہے گا اور لاشوں کی تدفین بھی نہیں کریں گے۔مظاہرین سیمذاکرات ناکام ہونے کے بعد وزیرداخلہ شیخ رشید دھرنے سے روانہ ہو گئے۔ اس موقع پر وزیرداخلہ شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مچھ واقعہ بہت بڑا ظلم اور زیادتی ہے، میں اس پر شرمندہ ہوں۔ لواحقین کو صوبائی حکومت 15 اور وفاق 10 لاکھ روپے فی کس دے گا، انہوں نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ پوری کوشش سیوعدوں کوپایہ تکمیل تک پہنچاں گااور یقین دلاتا ہوں کہ حملہ آوروں کو گرفتار نہیں کریں گے بلکہ ان کے ساتھ اور ہی سلوک کریں گے۔

متعلقہ خبریں