پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ہزارہ برادری کے شہداء کی تدفین کا معاملہ، مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کو انسانیت سے عاری قرار دے دیا

ہزارہ برادری پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے‘ ہم لوگ گزشتہ روز انھیں دلاسہ دینے گئے تھے، اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے تھے

مسلم لیگ (ن)کی رہنما مریم نواز شریف نے ہزارہ برادری کے شہداء کی تدفین کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کے بیان پر انھیں انسانیت سے عاری انسان قرار دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ہم لوگ گزشتہ روز انھیں دلاسہ دینے گئے تھے، اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے لاہور جانا تھا، کوئٹہ سے واپسی پر کراچی رکنا پڑا، میرا یہاں پریس کانفرنس کا کوئی پروگرام نہیں تھا لیکن وزیراعظم کے حالیہ بیان نے مجھے انھیں جواب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ کسی ملک میں وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا جاتا، میں نے اپنے وزرا کو سانحہ مچھ کیخلاف دھرنے میں بھیجا، ان کے تمام مطالبات تسلیم کئے، میری وہاں آمد پر تدفین کی شرط سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہزارہ برادری اپنے لوگوں کی تدفین کرے تو میں آج ہی ان سے ملاقات کیلئے وہاں پہنچ جاؤں گا۔ اسی بیان کے ردعمل میں مریم نواز شریف نے کہا کہ میری گزشتہ روز ہزارہ برادری کی کچھ خواتین سے ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ ان گھر میں جنازے اٹھانے کیلئے کوئی مرد نہیں بچا۔ گزشتہ چھ روزسے قوم کی مائیں اور بہنیں بے حس شخص کا انتظار کر رہی ہیں۔ اگر آپ ان کے دکھ درد میں شریک نہ ہوئے تو بعد میں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر تکبر کا کوئی چہرہ ہوتا تو وہ عمران خان کا چہرہ ہوتا جو مظلوموں کی لاشوں کیساتھ ضد لگا کر بیٹھے ہیں۔ متاثرین دست شفقت کے علاوہ وزیراعظم سے کچھ نہیں مانگ رہے۔

مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری کی وجہ سے پوری قوم سوگ میں ہے۔ ہزارہ برادری کے دکھ میں شریک ہونا وزیراعظم عمران خان کی ذمہ داری نہیں بلکہ فرض تھا۔ اس کا جواب آپ کو اللہ تعالی اور عوام کو دینا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ ایسی کون سے مجبوری تھی کہ اس نے وزیراعظم کو ہزارہ برادری کے دھرنے میں جانے سے روکا۔ آپ شرطیں لگاتے ہو کہ میتیں دفنا دیں پھر آں گا۔ عوام کو بتایا جائے کہ یہ تابعداری ہے یا کسی قسم کی توہم پرستی ہے۔ آپ جا نہیں سکتے تو ہمدردی کے دو بول ہی بول دیتے۔

متعلقہ خبریں