پاکستان

بھٹو اور نوازشریف کے خلاف کون کون سے کارڈز استعمال کیے گئے؟سنسنی خیز انکشافات نے قومی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا

بھٹو کیخلاف تحریک کو مذہبی رنگ دیا گیا‘ یوں بھٹو کو سرعام کوہالہ کے پل پر پھانسی چڑھانے کے سرعام دعوے کر کے ان کے خلاف نفرت کو بڑھایا گیا

بھٹو اور مسلم لیگ ن کے قائد و سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے خلاف کون کون سے کارڈز استعمال کیے گئے؟سنسنی خیز انکشافات نے قومی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اتحاد نے بھٹو کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی تو اس میں نفرت اور غصہ تھا۔ اسے خان صاحب کی خوش قسمتی پر ہی محمول کرنا چاہئے کہ پی ڈی ایم خان صاحب کے خلاف نفرت کا زہر گھولنے میں ناکام رہی۔ بھٹو کے خلاف تحریک کو مذہبی رنگ دیا گیا۔ یوں بھٹو کو سرعام کوہالہ کے پل پر پھانسی چڑھانے کے سرعام دعوے کر کے ان کے خلاف نفرت کو بڑھایا گیا۔ نواز شریف کے خلاف تحریک انصاف کی مہم میں پہلے تو بار بار نواز شریف کو کرپٹ کہا گیا، جھوٹے سچے اعدادوشمار کو پیش کر کے کہا گیا کہ نواز شریف عوام کا پیسہ لوٹ کر کھا گیا۔

سیاسی معاشی الزامات کے بعد آخر میں مذہبی الزامات لگا کر اس نفرت کو اور بھی بڑھاوا دیا گیا۔ حکومتوں کے خلاف تحریک چلانی ہو تو صرف مخالفت کی بنا پر ایسی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ بھٹو اور نواز شریف دونوں کے خلاف سیاسی اور مذہبی کارڈ استعمال کر کے انہیں نفرت کا ہدف بنایا گیا جذبات کو اس حد تک بھڑکایا گیا کہ تحریک انصاف کے کچھ جذباتی حامی لندن میں نواز شریف کے گھر پارک لین پر حملہ آور ہو گئے۔ اس سے پہلے عمران خان کے دھرنے کے خاتمے پر پی ٹی وی اور پارلیمان پر حملے کے واقعات بھی رونما ہو چکے تھے۔

متعلقہ خبریں