پاکستان

” تبدیلی ایک مسلسل عمل کا نام، اصل ریٹائرمنٹ توصرف قبرمیں ہی ہوتی ہے۔”۔۔۔ وزیر اعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ  تبدیلی ایک مسلسل عمل کا نام ہے اصل ریٹائرمنٹ توصرف قبرمیں ہی ہوتی ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کے  22 کروڑ عوام میں سے صرف 3 ہزار لوگ 70 فیصد ٹیکس دیتے ہیں، ہم جو مرمر کے ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں اس میں سے آدھا گزشتہ حکومتوں کے لئے ہوئے قرضوں کی قسطوں پر چلا جاتا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انقلاب کا مطلب ہوتا ہےاسٹیٹس کو کی تبدیلی، اس کے لئے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے، تبدیلی ایک مسلسل عمل کا نام ہے، یہ کوئی سوئچ نہیں جسے آن کریں تو تبدیلی آگئی۔ ہم ایک فیصلہ کن مرحلے پر ہیں، ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں، کنسٹرکشن انڈسٹری ٹیک آف کرگئی ہے، سروس انڈسٹری اس وقت پوری دنیا میں بحران کا شکارہے، جب آپ خرچے کم کرتے ہیں تو ڈیمانڈ کو نیچے لاتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان 1992  کے بعد سے کبھی اقتدار سے نہیں نکلے، وہ 2018 تک اقتدار میں رہے، پہلی دفعہ ہے کہ اسمبلی ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کا وزیراعظم کا دبئی کی کمپنی کی ملازمت کررہا تھا، خواجہ آصف اوراحسن اقبال نے منی لانڈرنگ کے لئے اقامہ لیا تھا، ملک کا سابق وزیر دفاع اقامہ پرجھوٹ بولتا رہا۔ میری زندگی تو بہت آسان ہو جائے اگر میں ان کو این آراو دے دوں لیکن یہ پاکستان کی تباہی ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ ملکی مفاد کے لئے نہیں ذاتی مفاد کےلیے اکٹھے ہوئے ہیں، اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف قانون سازی پر این آر او کے لئے بلیک میل کرنے کی کوشش کی، ان لوگوں نے ایک دوسرے کو این آر او دیا تھا، یہ لوگ مل کر چوری کررہے تھے، پرویز مشرف نے ان دونوں جماعتوں کو این آر او دیا، کرپٹ عناصر کو این آراو دینے سے ملک کا نقصان ہوگا۔

بلوچستان سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ افغان جہاد کے بعد پاکستان میں فرقہ ورانہ دہشت گردی شروع ہوئی، جام کمال اچھے وزیراعلیٰ ہیں ان کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں،  کم آبادی اور ووٹوں کی وجہ سے ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان پر توجہ نہیں دی، ہماری حکومت بلوچستان کی ترقی پر خصوصی توجہ دےرہی ہے، ماضی میں ترقیاتی فنڈزسرداروں کےذریعےجاتےتھے جس سے سردار امیر ہوگئے جب کہ بلوچستان کےعوام غریب رہ گئے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ داعش کو بھارت سپورٹ کررہا ہے، بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت کا ایک ہی مقصد ہے، اور وہ پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے۔ بھارت نے پاکستان میں شیعہ سنی فسادات کرانے کی کوشش کی، ہمارےاداروں نے مسلکی تصادم کو روکنے کے لیے بہترین کام کیا۔ اصل ریٹائرمنٹ تو صرف قبرمیں ہی ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں