پاکستان

نوازشریف کو کس نے اور کن شرائط پر لندن بھیجا؟ معاہدہ میں کیا کچھ طے ہوا؟ حافظ حسین احمد نے تمام پول کھول کر رکھ دیئے

نواز شریف تحریک انصاف اور عمران خان کی حکومت پانچ سال پورے ہونے کی شرط پر بیرون ملک گئے: حافظ حسین احمد کا دعویٰ

مسلم لیگ ن کے تاحیات قائدو سابق وزیراعظم نوازشریف کو کس نے اور کن شرائط پر لندن بھیجا؟ معاہدہ میں کیا کچھ طے ہوا؟ حافظ حسین احمد نے تمام پول کھول کر رکھ دیئے۔

تفصیلات کے مطابق حافظ حسین احمد نے انکشاف کیا کہ نواز شریف تحریک انصاف اور عمران خان کی حکومت پانچ سال پورے ہونے کی شرط پر بیرون ملک گئے۔حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ 2019 میں مارچ میں اپوزیشن کی دو جماعتوں نے جے یو آئی کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اسی مارچ کی وجہ سے نواز شریف لندن پہنچے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی بیرون ملک روانھی سے قبل صحت کے حوالے ڈرامہ تیار کیا گیا۔جس کے بعد چند قوتوں نے نواز شریف کو اس شرط پر جانے کی اجازت دی کہ وہ حکومت کو مدت پوری کرنے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کو حکومت مخالف تحریک میں ناکامی کا سامنا ہے جس کا ازالہ کرنے کے لیے انہوں نے سانحہ مچھ پر مگر مچھ کے آنسو بہائے،حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی برطرفی اور لواحقین کے موقف میں نرمی پی ڈی ایم کی وجہ سے ہی آئی۔

حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے 20 ستمبر اجلاس کے فیصلوں کو بلاول نے ویٹو کیا اور تمام جماعتوں کو اپنا فیصلہ ماننے پر مجبور کیا۔موجودہ حالات میں نام نہاد جمہوریت نوازی کی بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے۔جن خدشات کا اظہار ہم نے کیا تھا وہ حرف بہ حرف پورے ہو چکے ہیں۔قبل ازیں جمعیت علما اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا تھا کہ پی ڈی ایم کی قیادت نے سانحہ مچھ کے حوالے سے بھی عمرانی حکومت کو حسب روایت سہولت فراہم کردی، پی ڈی ایم کی قیادت سانحہ مچھ پر مگر مچھ کے آنسو بہاکر اپنی حکومت مخالف احتجاجی تحریک کی ناکامی کا ازالہ چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ مچھ کے مظلوموں نے اپنی داد رسی کے لیے جو احتجاج کا طریقہ اپنایا وہ ان کی مجبوری تھی اور ممکن تھا کہ عمران خان کے انا اور ضد کو شکست دیکر ان کو تدفین سے پہلے کوئٹہ آنے پر مجبور کر دیتے لیکن پی ڈی ایم کے رہنماں نے یہاں آکر مظلوموں کو اسی موقف پر ڈٹ جانے اور ساتھ ساتھ مریم نواز نے کراچی پہنچ کر پریس کانفرنس کرکے ہمدردانہ انداز کومعادانہ میں تبدیل کرکے اسے حکومت کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

متعلقہ خبریں