پاکستان

سانحہ ماڈل ٹاؤن اور عمران خان کے دھرنے کروانے والے کون تھے؟ اور انہوں نے کون سے مقاصد حاصل کیے؟ احسن اقبال پھٹ پڑے

سانحہ ماڈل ٹان اور پی ٹی آئی لانگ مارچ کا بہت گہرا تعلق ہے، سانحہ ماڈل ٹائون میں وہی ہاتھ تھے جو لانگ مارچ کے پیچھے تھے

مسلم لیگ نے رہنماء احسن اقبال نے سانحہ ماڈل ٹاؤن اور عمران خان کے دھرنے کروانے والے کون تھے اور انہوں نے کون سے مقاصد حاصل کیے سب کچھ صاف صاف بتا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹان اور پی ٹی آئی لانگ مارچ کا بہت گہرا تعلق ہے، سانحہ ماڈل ٹان میں وہی ہاتھ تھے جو لانگ مارچ کے پیچھے تھے، آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد سازش دم توڑگئی، اسی لیے فارن فنڈنگ کیس نہیں کھولا جارہا، اب عمران خان کی حکومت ہے ذمہ داروں کو سامنے لائے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کے اعلی سطی پارلیمانی اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ملک کی ناکام معاشی پالیسیاں ہیں، صنعت کا شعبہ اور اانجینئرنگ سیکٹر اور دوسرے شعبے تباہ ہوکررہ گئے ہیں، ملک اور معیشت گروتھ سے چلتے ہیں، ان کو پتا ہی نہیں،قوم کو نے دیکھ لیا کہ سفاک اور سنگدل بھی ہیں، ایک سلیکٹڈ نے مجبور بے کس لوگوں کی بات ماننے سے انکار کردیا، 6دنوں سے منفی درجہ حرارت میں میتیں رکھ کر بیٹھے رہے، وہ کہتے رہے کہ وزیراعظم باپ کا درجہ رکھتا ہے کہ ہمارے سروں پر ہاتھ رکھ دیں، یقین دہانی کروا دیں کہ آئندہ یہ قیامت نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ مئی 2018 میں بھی یہ حادثہ ہوا تھا، اس وقت مطالبہ کیا تھا کہ آرمی چیف آئیں، اس وقت بھوک ہڑتال کی تھی، ہم وہاں گئے، ہم نے کوئی شرط نہیں رکھی کہ پہلے بھوک ہڑتال ختم کرو۔ یہ بے روزگاری، مہنگائی، اور دہشتگردی کو شکست نہیں دے سکے، کشمیر ہڑپ کرنے والی خارجہ پالیسی کو شکست نہ دے سکے، انہوں نے مظلوم بچوں کو شکست دی، ان سے اپنی ضد منوا کرجیت کر فاتحانہ طور پر کوئٹہ پہنچے ہیں، قوم نے آپ کا چہرہ دیکھ لیا کہ آپ میں ہمدردی نہیں سفاکی ہے۔ یہ بلیک میلنگ نہیں بلکہ انسانی ہمدردی ہے، انسان ہی اس دکھ کو محسوس کرسکتا ہے، عمران خان کے رویے کی مذمت کرتے ہیں،کیا نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جب مسجد میں بم دھماکا ہوا، ان کے پاس گئیں، تو انہوں نے کوئی مطالبہ نہیں رکھا، انہوں نے کہا کہ مریم نواز، بلاول بھٹو اور عبدالغفور حیدری گئے وہاں ہمدردی کی کہ پوری قوم آپ لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے لیکن حکومت نے اس کو مسئلہ بنادیا، اگر وہاں بھیجے بھی تو ایک مسلک کے وزرا بھیج دیے، اپنی ضد منوا کر کوئٹہ بھی تو کیا گئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے خالی نشستوں پر الیکشن میں بھرپور حصپ لینے کا فیصلہ کیا ہے، پی ڈی ایم کی جماعتوں کے ساتھ مل کر ضمنی الیکشن میں حصہ لیں گے،ہم نے سندھ میں پیپلزپارٹی کی نشستوں پر اپنا امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سانحہ ماڈل ٹان کے لوگوں کی شہبازشریف سے ملاقات ہوئی، زندگی میں پہلی بار میں نے شہبازشریف کی آنکھوں میں آنسو تھے، انہوں نے کہا کہ میری پوری حکومت انسانیت کا تحفظ کرتی ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میری حکومت میں سیاسی ہدایت پر ایسا ظلم کرے، میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ سانحہ ماڈل ٹان کا تعلق لندن پلان کی اس کامیابی سے تھا، جو آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد دم توڑ گیا تھا، اگر سانحہ ماڈل نہ ہوتا تو طاہر القادری کیوں واپس آتے؟وہ اپنی واپسی کا پروگرام منسوخ کرچکے تھے جب جون میں آپریشن ضرب عضب شروع ہوا، اتنا کہنا ہی کافی ہے۔ اپنے کزن کے ساتھ سانحہ ماڈل ٹان کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا وعدہ کیا کس نے کیا تھا؟اب حکومت کو دوسال ہوگئے، مسلم لیگ ن کی حکومت نہیں ہے؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جو لانگ مارچ کے پیچھے ہاتھ تھے، لانگ مارچ اور سانحہ ماڈل ٹان کا آپس میں بہت رابطہ ہے، آپریشن ضرب عضب جب شروع ہوا تو قومی اسمبلی میں سب نے سپورٹ کیا، عمران خان نے بہاولپور کا جلسہ منسوخ کردیا، جبکہ طاہر القادری نے وطن واپسی منسوخ کردی، عمران خان کی لندن پلان اور لانگ مارچ کی جو سازش تھی، جو فارن فنڈنگ سے ہورہی تھی، ہم کیوں کہتے ہیں کہ فارن فنڈنگ کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

متعلقہ خبریں