پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ملک بھر میں بلیک آؤٹ کیسے ہوا؟ قصور وار کون تھا؟ عوام کو چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آگئی، وزیراعظم عمران خان بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے

بلیک آوٹ سے قبل سسٹم کی فریکوئنسی 49.85 تھی اور بلیک آوٹ سے قبل سسٹم مجموعی طور پر 10 ہزار 311 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا تھا

ملک بھر میں بلیک آؤٹ کیسے ہوا؟ قصور وار کون تھا؟ عوام کو چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آگئی جس کے بعد وزیراعظم عمران خان بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 9 جنوری کو رات 11.41 پر 500 کے وی گڈو شکار پور سرکٹ 1 اور 2 ٹرپ کر گئے جس کے ساتھ ہی 500 کے وی کی گڈو مظفر گڑھ اور گڈو ڈی جی خان ٹرانسمیشن لائن بھی ٹرپ ہو گئیں جس سے پورا بجلی کا نظام بیٹھتا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بلیک آوٹ سے قبل سسٹم کی فریکوئنسی 49.85 تھی اور بلیک آوٹ سے قبل سسٹم مجموعی طور پر 10 ہزار 311 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا تھا جس میں پانی سے 1257 میگاواٹ بجلی بنائی جارہی تھی جب کہ سرکاری تھرمل بجلی گھروں سے 983 میگاواٹ اور آئی پی پیز سے 8 ہزار 70 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سسٹم کی بحالی کا عمل تربیلا، منگلا اور وارسک پاور ہاسز سے شروع کیا مگر سسٹم فریکوئنسی کی بہت زیادہ اتار چڑھا سے ٹرپنگ جاری رہی، سسٹم کو مستحکم کرنے کے لیے تربیلا اور منگلا کو انٹر لنک کیا گیا جس سسٹم کی بحالی شروع ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق 10 جنوری کو رات 7.40 تک تمام ٹرانسمیشن عمل بحال کر دیا تھا اور 10جنوری کو ہی شام 6.44 پر این ٹی ڈی سی کا نیٹ ورک کے الیکٹرک کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔

متعلقہ خبریں