پاکستان

صاف صاف بتایا جائے کہ آپ کس کی طرف ہیں اور کس کی طرف نہیں ہیں؟ مولانا فضل الرحمن کی گھن گرج نے ایک بار پھر سیاسی ماحول گرما دیا

جنرل ضیاالحق اور جنرل مشرف کی طرح کا مارشل لا ہے اور ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نے پوری زندگی آمریت کے خلاف جنگ لڑی ہے

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی گھن گرج نے ایک بار پھر سیاسی ماحول گرماتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے صاف صاف پوچھا ہے کہ وہ کس کی طرف ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فوج کو وضاحت دینی ہو گی کہ وہ غیر جانبدار ہیں کہ عمران خان کے ساتھ فریق ہیں۔ اگر وہ فریق ہیں تو پھر ہماری مجبوری ہو گی کہ جی ایچ کیو کے دروازے پر احتجاج کریں۔ انھوں نے کہا کہ یہ جنرل ضیاالحق اور جنرل مشرف کی طرح کا مارشل لا ہے اور ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نے پوری زندگی آمریت کے خلاف جنگ لڑی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم 19 جنوری کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے کرپشن کے دروازے کھول رکھے ہیں اور قومی احتساب بیورو (نیب)کو یہ نظر نہیں آتا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم، اسلام آباد میں 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کرے گی اور فارن فنڈنگ کیس کا تعاقب کرے گی جبکہ 21 جنوری کو کراچی میں ‘اسرائیل نامنظور’ کے لیے ملین مارچ کا انعقاد کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس سے پہلے عوام تمہارے اقتدار کی کشتی غرق کردے، چند دن باقی ہیں خود استعفیٰ دے کر چلے جا۔

متعلقہ خبریں