پاکستان

پاکستان کا اصلی مالک عوام ہیں یا طاقتور ادارے؟ فیصلہ کاوقت آن پہنچا‘ مولانا فضل الرحمن نے طبل جنگ بجا کر سب کو حیران کر دیا

آج فیصلہ کن وقت آگیا ہے اور یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستان کے مالک اس کے عوام ہیں یا کچھ طاقتور ادارے ہیں

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے طبل جنگ بجاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا اصلی مالک عوام ہیں یا طاقتور ادارے اس کا فیصلہ کا وقت آن پہنچا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج فیصلہ کن وقت آگیا ہے اور یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستان کے مالک اس کے عوام ہیں یا کچھ طاقتور ادارے ہیں۔ لورالائی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے صدر اور سربراہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ لورالائی میں عظیم المثال اور تاریخی اجتماع میں عوام کی بے مثال کی شرکت اس بات کا اعلان ہے کہ بلوچستان کے عوام دھاندلی کی پیداوار حکومت کو مسترد کرتے ہیں اور ووٹ چوری کرکے آنے والے حکومت کو قوم پر مزید مسلط ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے قصد کیا ہے کہ واپس لے کر رہیں گے اس ملک میں عوام کی مرضی کی حکومت قائم ہو کر رہے گی انہوں نے کہا کہ ہماری یہ جنگ پاکستان میں جمہوری فضاں کی بحالی، آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور قانون کی عمل داری کے لیے ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اس مقصد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر ہیں. مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں آج قوم ایک پلیٹ فارم پر ہے، ہم نے پورے ملک میں جلسے کیے ہیں، کراچی، لاہور، بہاولپور، مالاکنڈ اور آج لورالائی دور دراز علاقوں میں عوام کا سمندر ہمارے جلسوں میں امنڈ آتا ہے، یہ موجیں مارتا ہوا سمندر کوئی مقاصد اور نظریہ رکھتا ہے اور اس ملک کے لیے کوئی مطالبہ رکھتا ہے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں عمران خان کو جانا ہی ہے، یہ ایک غیر متعلقہ شخص ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فیصلہ یہ کرنا ہے کہ پاکستان کا مالک پاکستان کے عوام ہیں یا پاکستان کا مالک ہمارے کچھ طاقت ور ادارے ہیں آج فیصلہ کن وقت آگیا ہے آج ہم نے فیصلہ کن جنگ لڑنی ہے. انہوں نے کہا کہ یہ جعلی حکومت اورجعلی وزیراعظم کو عقل نہیں ہے، اس کا تو کوئی نظریہ ہی نہیں ہے، کبھی کہتا ہے میری حکومت آئے گی تو ریاست مدینہ بناں گا، چند گزرتے ہیں تو کہتا ہے کہ پاکستان میں چین جیسا نظام ہونا چاہیے، تھوڑا عرصہ گزرتا ہے تو کہتا ہے کہ ایران جیسا انقلاب آنا چاہیے، ابھی چند ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان کو ایک امریکی نظام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران نے کہا تھا کہ خدا کرے بھارت میں مودی کامیاب ہوجائے مودی کامیاب ہوا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا اب مودی کامیاب بھی ہوگیا اور مسئلہ حل ہوگیا کہ کشمیر پر اس نے قبضہ کرلیا انہوں نے کہا کہ ان کو کشمیر پر بات کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے کبھی ہم 85 ہزار مربع کلومیٹر کشمیر کی بات کرتے تھے اور آج ہم 5 ہزار کلومیٹر کشمیر کی بات کر رہے ہیں ہم نے گلگت بلتستان کو بھی کشمیر سے الگ کردیا۔

متعلقہ خبریں