پاکستانفیچرڈ پوسٹ

براڈ شیٹ کیس کا معاملہ‘ چیف ایگزیکٹو کے شہزاد اکبر اور شریف خاندان سے متعلق اہم انکشافات‘ قومی سیاست میں سنسنی پھیل گئی

شہزاد اکبر نے مجھے بتایا کہ ظفر علی اس سے ملاقات کے لیے آیا تھا اور میں نے کہا کہ آپ اس سے ملاقات پر رضامند کیوں ہوئے؟

براڈ شیٹ کیس کا معاملہ‘ چیف ایگزیکٹو کے شہزاد اکبر اور شریف خاندان سے متعلق اہم انکشافات سامنے آنے کے بعد قومی سیاست میں سنسنی پھیل گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق صحافی مرتضی علی شاہ نے بتایا کہ پاکستان سے29 ملین امریکی ڈالر ہرجانہ وصول کرنے والی برطانوی کمپنی براڈشیٹ نے عمران خان حکومت سے ایک اور معاہدہ کرنے کے لیے بات چیت کی، کمپنی کے نمائندے بیرسٹر ظفر علی نے وزیراعظم عمران خان اور مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر سے ملاقات کی۔

کاوہ موسوی نے انکشاف کیا کہ شہزاد اکبر نے مجھے بتایا کہ ظفر علی اس سے ملاقات کے لیے آیا تھا اور میں نے کہا کہ آپ اس سے ملاقات پر رضامند کیوں ہوئے؟ شہزاد اکبر نے کہا کہ ظفر علی کا ان سے تعارف پاکستان کی ایک بہت زیادہ طاقتور شخصیت نے کروایا تھا اس لیے میں ان سے ملاقات سے انکار نہیں کر سکتا تھا لیکن پھر اس سے ملاقات کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اس قابل نہیں اس لیے میں نے عملی طور پر اسے باہر کا راستہ دکھایا۔

براڈ شیٹ کے سی ای او نے کہا کہ کیونکہ عمران خان نئے نئے حکومت میں آئے تھے اور وہ لوگ نئے چینلز کی تلاش میں تھے اور خیال تھا کہ پچھلی حکومتیں بد دیانت تھیں اور ہم ان معاملات کی مناسب تحقیقات چاہتے ہیں اور ہم آپ کو نیا کنٹریکٹ دیں گے تو میں نے کہا ٹھیک ہے، جب ظفر علی نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے شہزاد اکبر سے ملاقات پر رضامندی ظاہر کی، میں نے شہزاد اکبر سے پوچھا اور اس نے تصدیق کی کہ اس نے ان سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے بتایا میں نے ظفر علی سے کہا کہ اس پر اعتبار نہیں تھا تو اس سے ملے کیوں؟ انہوں نے کہا کہ اس کا تعارف مجھ سے پاکستان میں بہت طاقتور افراد نے کروایا تھا اور میں نے سوچا تھا کہ چلو مل لیتے ہیں، میں نے کہا کہ پاکستان میں آپ معاملات ایسے چلاتے ہیں، انسانی حقوق کا ایک وکیل ایسا کیسے کر سکتا ہے کہ طاقتور لوگوں کے کہنے پر ملاقات کرے۔ ان کا کہنا تھا شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ پاکستان کے حقائق ہیں، میں نے کہا کہ شہزاد مجھے پاکستان کے حقائق کے بارے میں مت سکھا، اس بارے میں مجھے 18 برسوں کے تلخ تجربات ہیں۔ چیف ایگزیکٹو براڈ شیٹ کا کہنا تھا کہ ایون فیلڈ کا معاملہ تو بہت بعد میں سامنے آیا، ہم دیگر اثاثوں کو دیکھ رہے تھے، شروع میں ہم نے ڈارک نیٹ کی تحقیقات کیں اور اس میں کچھ نشانیاں ملیں اور ہم نے اپنی مدد کے لیے ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ ہائر کیے، ایون فیلڈ کے معاملات تو بعد میں سامنے آئے جب یہ ہاٹ سٹوری بنی۔ انہوں نے بتایا میں نے دیکھا ہے کہ شریف خاندان یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہے کہ لندن کی عدالت نے انہیں بری قرار دے دیا ہے، میرا پیغام ہے کہ ایسا نہیں ہوا، ہوا یہ ہے کہ ہم نے نواز شریف کے خلاف درخواست واپس لے لی تھی کیوں کہ ہمیں پہلے ہی اتنی رقم مل چکی تھی جس سے ججمنٹ کور ہو جاتی اور ہم نے اسے چھوڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا یہ خیال کہ میں نے کمپنی تب خریدی جب یہ دیوالیہ تھی ایک اختراع ہے، یہ جھوٹ نہیں اختراع ہے، شہزاد اکبر یہ کہتے ہیں تو جھوٹ کہتے ہیں اور میں یہ کیمرے کے سامنے کہتا ہوں کہ وہ جھوٹ کہتے ہیں کہ میں نے براڈشیٹ کو خریدا، میں براڈشیٹ کو مسلسل فنڈ کرتا رہا ہوں تاکہ یہ دیوالیہ نہ ہو اور رجسٹر پر آئے تاکہ ایکشن کر سکے۔

کاوہ موسوی نے کہا کہ ہم سے معاہدہ مشرف حکومت نے کیا تھا اور اس لیے معاہدے کی خلاف ورزی بھی مشرف حکومت نے کی لیکن ریاست ذمے دار ہوتی ہے، اگر حکومتیں آتی جاتی ہیں تو اس مطلب یہ نہیں کہ احتساب بیورو ذمہ دار نہیں۔ واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لندن میں موجود فلیٹس ایون فیلڈ کے حوالے سے برطانیہ کی براڈ شیٹ کمپنی کے چیف کیوے موسوی نے اہم انکشافات کیے تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ براڈ شیٹ سے جان چھڑوانے کی وجہ بھی شریف فیملی تھی، غیر قانونی اثاثوں کی تحقیقات سے پیچھے ہٹنے کے لیے رشوت کی پیش کش کی گئی، خود کو نواز شریف کا بھتیجا بتانے والے نے رشوت کی آفر کی تھی۔ براڈشیٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر او کاوے موسوی نے انکشاف کیا کہ شریف فیملی کی جانب سے انجم ڈار نے رشوت کی پیشکش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انجم ڈار نے خود کو نواز شریف کا بھانجا یا بھتیجا ظاہر کیا اور ثبوت کے طور پر نواز شریف کے ساتھ اپنی تصاویر بھی دکھائیں۔ انہوں نے بتایا کہ انجم ڈار سے ملاقات کا گواہ بھی ہے، ملاقات میں اس نے 25 ملین ڈالر کی پیشکش کی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button