پاکستانفیچرڈ پوسٹ

کیا مولانا فضل الرحمن کی جماعت پر بھی فارن فنڈنگ کیس بنایا جارہا ہے؟جمعیت علماء اسلا(ف) کے خلاف بنایا گیا منصوبہ، تجزیہ کار ایاز میر نے بے نقاب کر دیا

اگر جعلی ڈگری پر رکن اسمبلی نااہل ہوسکتا ہے تو پھر قانون کی تھوڑی سی خلاف ورزی سے اگر کہیں کسی جماعت میں پیسا آیا ہے تو فارغ ہوجائے گی

سینئر تجزیہ کار ایاز میر نے مولانا فضل الرحمن کی جماعت پر فارن فنڈنگ کیس کیوں بنایا جا رہا ہے اور جمعیت علماء اسلام(ف) کے خلاف بنایا گیا منصوبہ بے نقاب کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق رکن قومی اسمبلی اور سینئر تجزیہ کار ایاز میر نے الزام عائد کیاہے کہ ایک بار قومی اسمبلی کے مشترکہ سیشن جے یوآئی ف کی فارن فنڈنگ کا ذکر کیاگیا تھا، جنرل شجاع پاشا نے کہا کہ میں لیبیا کا نام نہیں لینا چاہتا، وہاں کے فنڈز کا ذکر نہیں کرنا چاہتا، جس کے بعدپورے سیشن میں مولانا فضل الرحمان خاموش رہے۔ انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کا اگر فیصلہ ہوگا تو ساری جماعتیں فارغ ہوجائیں گی، اگر جعلی ڈگری پر رکن اسمبلی نااہل ہوسکتا ہے تو پھر قانون کی تھوڑی سی خلاف ورزی سے اگر کہیں کسی جماعت میں پیسا آیا ہے تو فارغ ہوجائے گی، وہ مسلم لیگ ن ہو، پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی یا پھر جے یوآئی ف ہو۔ ایک قصہ ہے، میں رکن قومی اسمبلی تھا، تب ایک قومی اسمبلی کا ان کیمرہ مشترکہ سیشن ہوا تھا، اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا کو کہاگیا کہ جوائنٹ سیشن کو بریفنگ دیں، وہاں پر مولانا فضل الرحمان حسب روایت حسب عادت چڑھ گئے، انہوں نے کہا کہ میں چپ ہوں،کچھ کہنا نہیں چاہتا، میں لیبیا کا نام نہیں لینا چاہتا، وہاں کے فنڈز کا ذکر نہیں کرنا چاہتا، اگر نہیں کررہا تو یہ ادب ہے، اس کے بعد سارے سیشن میں مولانا فضل الرحمان کے لبوں سے ایک لفظ نہیں نکلا، میرے ساتھ والے ارکان اسمبلی سے گواہی لے لیں، اس لیے ہر جماعت فارغ ہوجائے گی۔

اگر ساری جماعتیں فارغ ہوگئیں تو پھر کون آئے گا؟پھر وہی آئیں گے جن کے بارے کہا جاتا ہے چار مارشل لا لگے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس فنڈز دینے والے 40 ہزار ناموں کی تفصیلات موجود ہیں، یہ ہمیں پھنساتے ہوئے خود پھنس گئے ہیں، اب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو جواب دینا پڑگیا کہ انہیں فنڈز کہاں سے ملتے ہیں، اپوزیشن جماعتوں نے تاحال اسکروٹنی کمیٹی کو جواب ہی نہیں دیے، ان جماعتوں نے ملک کو اپنی جاگیر بنا رکھا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button