پاکستان

غیر قانونی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ، حکومت کی اتحادی جماعتوں کی بغاوت زور پکڑنے لگی‘ پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہوگا؟ پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے واضح کر دیا

غیرقانونی فنڈنگ ثابت ہوئی تو حکومت پی ٹی آئی پر خود پابندی لگائے گی، حکومت کے ساتھ بیٹھی اتحادی جماعتیں بھی پیچھے ہٹ جائیں گی

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے واضح کر دیا ہے کہ غیر قانونی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے سے قبل کی حکومت کی اتحادی جماعتوں کی بغاوت زور پکڑنے لگ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ غیرقانونی فنڈنگ ثابت ہوئی تو حکومت پی ٹی آئی پر خود پابندی لگائے گی، حکومت کے ساتھ بیٹھی اتحادی جماعتیں بھی پیچھے ہٹ جائیں گی، اب پی ٹی آئی کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں، فارن فنڈنگ کے ساتھ کسی حکومت کا قائم رہنا ممکن نہیں۔

پی ڈی ایم جماعتوں رہنما رانا ثنااللہ اور چودھری منظور گفتگو کررہے تھے۔ مسلم لیگ ن کے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد بھی ایک آپشن ہے واحد آپشن نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے بغیر تحریک عدم اعتماد کو کامیاب نہیں بنایا جاسکتا۔ اسی طرح سینیٹ الیکشن نہیں ہوسکیں گے۔ جس سے ایک ہاس نامکمل ہو جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں غیرقانونی فنڈنگ ثابت ہوئی تو وفاقی حکومت خود پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرے گی۔

پیپلزپارٹی کے چودھری منظور نے کہا کہ پی ڈی ایم عوام پر انحصار کررہی ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کے اندر سے بھی آوازیں آنا شروع ہوگئی ہیں۔ ایم کیوایم پاکستان پر دبا بڑھ رہا ہے۔ اگرایم کیو ایم حکومت کیساتھ رہی تو آئندہ ان کی جگہ کوئی اور لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحاریک میں مختلف مراحل آتے ہیں۔ ہم اپنی حکمت عملی کے تحت ہی چل رہے ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو استعفے بھی دینگے۔ لیکن اس سے پہلے سارے آپشنز استعمال کرینگے۔ استعفے دینا آخری آپشن ہے۔ پیپلزپارٹی کے چودھری منظورنے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ سے ہوسکتا ہے جبکہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ پر ہو ہی نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ چارٹرڈ آف ڈیموکریسی میں بھی نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے درمیان سینیٹ میں اوپن بیلٹ کی بات چیئرمین سینیٹ کے لیے تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button