پاکستان

مولانا فضل الرحمن کے بس میں ہو تو وہ حکومت کو منٹوں میں گھر بھیج دیں مگر رکاوٹ کیا ہے؟ صحافی کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

مولانا صاحب کا بس چلے تو وہ دس منٹ میں موجودہ حکومت کو گھر بھیج دیں لیکن ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے

سینئر صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کے بس میں ہو تو وہ حکومت کو منٹوں میں گھر بھیج دیں مگر کونسی رکاوٹ روک رہی ہے سب کچھ بتا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ مولانا صاحب کا بس چلے تو وہ دس منٹ میں موجودہ حکومت کو گھر بھیج دیں لیکن ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے۔ یہ ان کی خواہش ہو سکتی ہے، ان کا تکبر ہو سکتا ہے، ان کا غصہ ہو سکتا ہے، ان کا عمران خان سے کوئی ذاتی انتقام ہو سکتا ہے لیکن گرانڈ رئیلیٹی میں وہ کامیاب ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔

میری اطلاعات کے مطابق اور بلاول ہاؤس کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے آصف زرداری سے بہت سارے گلے شکوے کیے ہیں اور کہا ہے کہ آپ پی ڈی ایم کے فیصلوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ ہم کسی بھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ رہے۔ لوگ ہمارے ساتھ نہیں نکل رہے۔ ہمیں کلیئر کیا جائے کہ پیپلز پارٹی کی پوزیشن کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے آصف علی زرداری سے شکوہ کیا ہے کہ آپ ہمیں تنہا اور اکیلا کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اپنی موت آپ مر رہی ہے۔ جس پر آصف علی زرداری نے کہا کہ مولانا صاحب آپ قابل احترام اور قابل عزت ہیں لیکن آپ کبھی بھی پاکستان میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں آئے۔ میں پاکستان کی سیاست کو جانتا ہوں۔ جس طرح آپ پی ڈی ایم کو لے کر چل رہے ہیں اس سے نقصان ہو گا۔ ہم پر قسم کی طاقت استعمال کریں گے لیکن وقت آنے پر، میں کسی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام سے عمران خان کی حکومت نہیں گراں گا۔

عارف حمید بھٹی نے بتایا کہ مولانا، مریم نواز اور نواز شریف ایک پیج پر ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اگلے دن کا سورج طلوع نہ ہو اور عمران خان کی حکومت چلی جائے۔ لیکن مجھے بادی النظر میں پی ڈی ایم کی قیادت تتر بتر ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ جتنا میں فیڈ بیک لے رہا ہوں، میں نے مسلم لیگ ن کے ایک اہم رہنما سے بات کی، اور لانگ مارچ سے متعلق دریافت کیا، جس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے 80 فیصد رہنماں کا خیال ہے کہ لانگ مارچ کا حشر الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج سے بھی بہت برا ہو گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button