پاکستان

اپوزیشن اتحاد وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر پائے گا یا نہیں؟ سینئر صحافی سلیم صافی نے حقیقت کھول کر رکھ دی

مسلم لیگ ن کی قیادت بھی یہی سمجھتی ہے‘ اصل میں ہوا وہی ہے کہ جو پیپلز پارٹی نے ماضی میں کیا، وہ ماضی کو ایک مرتبہ پھر سے دوہرا رہی ہے

اپوزیشن اتحاد ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر پائے گا یا نہیں؟ سینئر صحافی سلیم صافی نے حقیقت کھول کر رکھ دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ مولانا، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی والے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ عدم اعتماد بالکل نہیں ہو سکتا۔ بظاہر پیپلز پارٹی نے ٹائم گزارنے کے لیے یہ شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت بھی یہی سمجھتی ہے۔ اصل میں ہوا وہی ہے کہ جو پیپلز پارٹی نے ماضی میں کیا، وہ ماضی کو ایک مرتبہ پھر سے دوہرا رہی ہے۔

بارہا اس بات کا ذکر ہو چکا ہے کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہے اور اس کے ایک دو کیسز سنگین ہیں۔ دوسرا یہ کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نواز شریف کی طرح ملک سے باہر نہیں گئی بلکہ یہیں پھسنی ہوئی ہے اور تیسرا موجودہ سسٹم ہے اس کا تسلسل زرداری صاحب کو عمران خان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ زرداری صاحب سمجھتے ہیں کہ اگر فوری الیکشن ہوتے ہیں تو شاید سندھ بھی ان کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔

جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ ن اور مولانا کا یہ خیال ہے کہ اگر دوبارہ الیکشن ہوتے ہیں تو اس میں بہر حال ان کا حصہ اس سے کہیں زیادہ ہو گا اور جو آزمائشیں ہیں ان کو ان سے بھی نجات مل جائے گی۔ سلیم صافی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو ساتھ ساتھ اس بات کا بھی یقین ہے کہ اگر وہ خراب ہوئے تو دونوں جماعتیں خراب ہوں گی، وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی کو توڑ کر وہ پی ڈی ایم سے الگ کرتے ہیں تو اس سے حکومت کو مزید تقویت ملے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کا منصوبہ ناکام ہو گا تو پیپلز پارٹی کو سبکی سے ہماری طرف آنا ہو گا، پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک ساتھ انتخابی اتحاد میں نہیں جا سکتے۔ پیپلز پارٹی کو مائنس بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم موجودہ حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جب یہ سینیٹ الیکشن میں جا رہے ہیں اور ضمنی الیکشن میں بھی حصہ لے رہے ہیں تو یہ عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنا سکتے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button