پاکستانفیچرڈ پوسٹ

حکومت صحافیوں کو سچ لکھنے اور دکھانے سے روکنا چاہتی ہے یا اس کا منصوبہ کچھ اور ہے؟ صحافی حامد میر نے حکومت پر چڑھائی کر دی

حیلے بہانوں سے یہ سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ صرف وہ سچ بولو اور لکھو جس کی زد میں حکومت نہ آئے لیکن صحافی باز نہیں آتے

سینئر صحافی حامد میر نے حکومت پر چڑھائی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صحافیوں کو سچ لکھنے اور دکھانے سے روکنا چاہتی ہے یا اس کا منصوبہ کچھ اور ہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھاکہ یہ ایک ایسی لڑائی کی کہانی ہے جو 1950میں شروع ہوئی۔اس لڑائی کا ایک فریق ہر قسم کے اسلحے اور وسائل سے مالا مال ہے۔دوسرے فریق کے پاس صرف قلم اور کیمرہ ہے۔ ایک فریق کا نام حکومت ہے اور دوسرا فریق صحافی ہیں۔ حکومت ان صحافیوں کو سچ بولنے اور لکھنے سے روکنا چاہتی ہے۔ حیلے بہانوں سے یہ سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ صرف وہ سچ بولو اور لکھو جس کی زد میں حکومت نہ آئے لیکن صحافی باز نہیں آتے۔ یہ گستاخ صحافی کبھی جیل میں پھینک دیے جاتے ہیں، کبھی ان کو کوڑے مارے جاتے ہیں، کبھی نوکریوں سے نکالا جاتا ہے اور کبھی کبھی تو انہیں گولیاں بھی مار دی جاتی ہیں لیکن یہ اپنی لڑائی ختم نہیں کرتے۔ آزادی صحافت کی اس لڑائی کی کہانی کو پہلی دفعہ پاکستان فیڈرل یونین جرنلٹس نے کتابی شکل دیدی ہے۔ ویسے تو پاکستان میں صحافت کی تاریخ اور سنسر شپ کے بارے میں کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں لیکن پی ایف یو جے نے آزادی صحافت کیلئے 1950 کے بعد ہونے والی جدوجہد کی کہانی کو اس کہانی کے اہم کرداروں کی زبانی مرتب کرایا ہے اور اس کتاب کے ذریعہ ایسے ایسے واقعات تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں جو اکثر نوجوان صحافیوں اور ابلاغیات کے طلبہ و طالبات کے علم میں نہیں ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button