پاکستانفیچرڈ پوسٹ

کورونا وباء کے دوران کتنے لاکھ پاکستانی بچے سکول جانے سے محروم ہو گئے؟ ہوش اڑا دینے والے اعدادو شمار منظر عام پر آگئے

کورونا وبا کے دوران پنجاب بھر میں 10 لاکھ بچوں نے سکول کو خیر باد کہہ دیا جبکہ پورے ملک میں تعداد 1کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ہے

کورونا وباء کے دوران کتنے لاکھ پاکستانی بچے سکول جانے سے محروم ہو گئے؟ اس حوالے سے ہوش اڑا دینے والے اعدادو شمار منظر عام پر آگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وبا کے دوران پنجاب بھر میں 10 لاکھ بچوں نے سکول کو خیر باد کہہ دیا جبکہ پورے ملک میں تعداد 1کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکول چھوڑ کر چلے جانے والے بچوں کو اگلے تین سے چار ماہ میں سکول واپس لائیں گے اور پنجاب کے 36 اضلاع میں یہ کام شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو اساتذہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کو بچے سکولوں میں واپس لانا پڑیں گے تو ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ اساتذہ کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ سکولوں کی کونسل اور سی ای اوز کی یہ ذمہ داری ہے۔

واضح رہے کہ آج سے ملک بھر میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک اور یونیورسٹیوں میں بھی تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں اور حکومت نے تعلیمی اداروں میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد لازمی قرار دیا ہے۔ محکمہ سکول ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کے مطابق طلبا کو متبادل دنوں میں بلایا جائے گا سکولوں اور کالجز میں اسمارٹ نصاب کے مطابق تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ کچھ جامعات میں آن لائن اور بعض میں طلبا کے امتحانات آن کیمپس ہوں گے. خیال رہے کہ کورونا وائرس کے باعث گزشتہ برس 15 مارچ سے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے جبکہ سندھ میں 26 فروری کو پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے ہی تعلیمی ادارے بند تھے 6 ماہ کی طویل بندش کے بعد تعلیمی اداروں کو 15 ستمبر کو دوبارہ کھولا گیا تاہم وبا کی دوسری لہر کے باعث انہیں 26 نومبر کو دوبارہ بند کر دیا گیا تھا۔ ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیرصرف سرکاری محکموں کی رپورٹوں کی بنیاد پر بیان دے رہے ہیں سرکاری سکولوں میں انتہائی غریب خاندانوں کے بچے زیرتعلیم تھے جن کے پاس آن لائنتعلیم کا کوئی ذریعہ نہیں تھا ان بچوں کی بڑی تعداد آج دوکانوں ورکشاپوں اور ہوٹلوں پر کام کررہی ہے جبکہ بچیوں کوگھروں میں کام کے لیے لاہور کراچیاسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں رشتہ داروں کے پاس بجھوادیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عین ممکن ہے وزیرموصوف کے اپنے گھر خاندان کے افراد یا جاننے والوں کے ہاں بھی ایسی کم عمر بچیاں کام کررہی ہوں ماہرین کے نزدیک حکومت کے پیش کردہ اعدادوشمار پر بھی یقین کرنا ممکن نہیں کیونکہ حکومتیں ہمیشہ اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے ایسے اعدادوشمار کم گھٹا کر دکھاتی ہیں. انہوں نے کہا کہ جب شہبازشریف کی وزارت اعلی میں یوکے ایڈ کے تحت بنیادی تعلیم کا پروگرام شروع کیا گیا تھا تو اس میں زیادہ سے زیادہ تعداد دکھانے کے لیے جعلی انرولمنٹس کی گئی تھیں اس وقت پورے صوبے میں سکول جانے کے عمر کے بچوں کی مجوعی تعداد اتنی نہیں تھی جتنی پنجاب حکومت نے دستاویزات میں دکھادی تھی جس کی بنیادی وجہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو نجی کمپنیوں کی ٹارگٹ دیئے گئے تھے کہ وہ لازم اتنے بچوں کی انرولمنٹ یقینی بنائیں گے بچے سکول آئیں گے یا نہیں اس پر کوئی بات نہیں کی گئی تھی سارا ضرور داخلوں کی تعداد پر تھا کیونکہ ڈونر ایجنسی یوکے ایڈکے اسی سے مطمئن کرنا مقصود تھا۔

ماہرین نے کہا کہ موجودہ حکومت بھی اسی راستے پر چل رہی ہے اگر آپ اساتذہ کو مجبور کریں گے تو ایک بار پھر وہی یوکے ایڈانرولمنٹ پروگرام میں جو کچھ ہوا تھا اسے دہرایا جائے گا اسی دوران حکومت نے بی اے اور ایم اے کے پرائیویٹ پروگرام ختم کرکے مستقبل میں بھی ان بچوں پر اعلی تعلیم کے دروازے بند کردیئے ہیں انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی اور وفاقی وزارت تعلیم ملک میں تعلیمی نظام کو تباہ کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button