پاکستان

عمران خان کو اراکین اسمبلی کے لئے 50، 50 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز کا اعلان کرنا مہنگا پڑا گیا، کالم نویس نے حکومت کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں

اراکین اسمبلی کا اصل کام قانون سازی ہے اور ترقیاتی فنڈز لوکل گورنمنٹس میں تقسیم ہو کر عوام کی فلاح پر خرچ ہونا آئینی تقاضہ ہے

وزیراعظم عمران خان کو اراکین اسمبلی کے لئے 50، 50 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز کا اعلان کرنا مہنگا پڑا گیا، جس کے بعد کالم نویس نے حکومت کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔

تفصیلات کے مطابق سینئر کالم نویس نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ وزیر اعظم کوایک اور بڑا فیصلہ کرنا پڑا، انہوں نے اراکین اسمبلی کو پچاس پچاس کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز دینے کا فیصلہ کیا۔ واضح رہے وہ اپنی تاریخی سیاسی جدوجہد میں اس کی بجاطور پر مخالفت کرتے رہے ہیں۔وہ دلائل کے ساتھ حکومت اور قوم کو یاد دلاتے رہے کہ اراکین اسمبلی کا اصل کام قانون سازی ہے اور ترقیاتی فنڈز لوکل گورنمنٹس میں تقسیم ہو کر عوام کی فلاح پر خرچ ہونا آئینی تقاضہ ہے۔ اڑھائی سال کی حکومت کے بعد آج حکومت کو سابقہ ادوار کی عوام مخالف پریکٹس دہرانا پڑ رہی ہے۔ شدت سے مطلوب ایمپاورڈ لوکل گورنمنٹس سسٹم کے لئے بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی یہ تلخ حقیقت مکمل حقیقت ہی نہ بن جائے کہ اراکین اسمبلی کو ملنے والے ترقیاتی فنڈز کا استعمال بھی روایتی طریقے سے ہی ہو جس میں ترقی کم تر اور کھلی کرپشن دیدہ دلیری سے ہوتی رہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ عوام کی حالت جوں کی توں بھی نہیں رہی ان کے عزت دار منتخب نمائندے ملک میں ہی نہیں بیرون ملک محلات اور قیمتی جائیدادوں کے مالک بن گئے۔ فیصلہ سازی کی ایک بہترین اپروچ یہ ہے کہ فیصلے صورتحال کے تقاضوں کے مطابق کئے جائیں، سو وزیر اعظم نے اپنے حکومتی و سیاسی تقاضوں کے مطابق اب آئینی روح کے برعکس اور قانون سازی کے لئے نااہل اور بیزار (بحیثیت مجموعی)اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کا فیصلہ ہی کرنا ہے تو ان کے استعمال کی نگرانی اور انہیں عوامی بہبود پرخرچ کرنے کے لئے نتیجہ خیز مانیٹرنگ سسٹم اور عوام کو تمام تر ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل اور اخراجات کوساتھ ساتھ عوام کیسامنے لانے کے لئے خصوصی ویب سائٹ کا بھی اہتمام کریں، تبدیلی حکومت کہیں تو تبدیلی لائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button