پاکستان

براڈشیٹ کی بقایا رقم کی جلد ادائیگی کے لئے نیب کو دھمکی، ہلچل مچ گئی

براڈ شیٹ قانونی اخراجات سمیت دیگر واجبات کے ضمن میں رقم جلد وصول کرنا چاہتا ہے لیکن حکومت پاکستان کسی قانونی کارروائی کا سامنا کیے بغیررقم ادا کرنا چاہتی ہے

اثاثہ جات ریکوری سے متعلق برطانوی فرم براڈشیٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب)کو جلد بقایا رقم ادا کرنے کی دھمکی دے دی جس کے بعد ہلچل مچ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق براڈ شیٹ اور نیب وکلا کی دو ہفتوں میں ہونے والی خط وکتابت کی تفصیلات حاصل کرلیں جس کے مطابق براڈشیٹ نے نیب کو بقایا رقم جلد ادا کرنے کی دھمکی دی ہے۔ وکلا براڈ شیٹ کا کہنا ہے کہ 2.2 ملین ڈالر جلد نہ ملے تو پاکستانی اثاثوں کے خلاف کارروائی دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔ براڈ شیٹ قانونی اخراجات سمیت دیگر واجبات کے ضمن میں رقم جلد وصول کرنا چاہتا ہے لیکن نیب کے وکلا کے مطابق حکومت پاکستان کسی قانونی کارروائی کا سامنا کیے بغیررقم ادا کرنا چاہتی ہے۔ وکلا نیب کاکہنا ہے کہ کورونا کے باعث تاخیر کا سامنا ہے، کلیئرنس ملتے ہی رقم ادا کردی جائے گی۔ نیب کی طرف سے براڈ شیٹ کو واجب الادا رقم پرسود بھی چڑھ رہا ہے جبکہ براڈ شیٹ کا قانونی اخراجات کی مد میں 7 لاکھ 91 ہزار 199 ڈالرکا بل بنتا ہے۔ براڈ شیٹ، نیب کے خلاف ہائیکورٹ میں کیس جیتنیکے بعد 29 ملین ڈالرکی رقم پہلے ہی وصول کرچکا ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے نواز شریف، آصف علی زرداری، بینظیر بھٹو اور دیگر کی پراپرٹیز کا پتہ چلانیکے لیے 1999 میں اثاثہ جات ریکوری سے متعلق برطانوی فرم براڈ شیٹ کی خدمات حاصل کی تھیں۔ تاہم نیب کی جانب سے یہ معاہدہ 2003 میں ختم کردیا گیا تھا جس کے خلاف فرم نے ثالثی عدالت میں نیب کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس پر عدالت نے اگست 2016 میں نیب کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اسے جرمانہ اداکرنے کا حکم دیا تھا۔ حالیہ دنوں میں براڈ شیٹ کیس کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں جس کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button