پاکستانفیچرڈ پوسٹ

اگر عدلیہ آزاد ہو جائے تو اسٹیبلشمنٹ کی کبھی ہمت نہ پڑے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت ……؟ صحافی انصار عباسی نے سوال اٹھا دیا میری ذاتی رائے میں سب سے اہم سوال عدلیہ کی آزادی کا ہے کیوں کہ اگر عدلیہ آزاد ہو گی تو میڈیا آزاد بھی ہو گا اگر عدلیہ آزاد ہو جائے تو اسٹیبلشمنٹ کی کبھی ہمت نہ پڑے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت ……؟ سینئر صحافی انصار عباسی نے تمام سوال اٹھا دیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ میری ذاتی رائے میں سب سے اہم سوال عدلیہ کی آزادی کا ہے کیوں کہ اگر عدلیہ آزاد ہو گی تو میڈیا آزاد بھی ہو گا اور ذمہ دار بھی اور تمام اداروں کو آئین و قانون کے مطابق اپنی اپنی حدود میں رکھنا ممکن ہوگا۔ اگر عدلیہ آزاد ہو گی تو اسٹیبلشمنٹ اپنی آئینی حدود سے باہر نکل کر سیاست میں مداخلت نہیں کر سکیں گی، نہ ہی حکومت اور حکمران ملک میں اقربا پروری، رشوت، سفارش، کرپشن کر سکیں گے۔ اگر عدلیہ آزاد ہو تو نہ ہمیں گمشدہ افراد کا مسئلہ درپیش ہوگا اور نہ ہی صحافیوں سمیت اختلاف کرنے والوں کو اٹھانے اور ان پر تشدد کرنے والے ہی گمنام رہیں گے۔ اگر عدلیہ آزاد ہوتی تو احتساب کے نام پر جو نیب کر رہا ہے اور جس کے بارے میں بار بار اعلی عدلیہ نے خود بہت سخت فیصلے دیے اور اعتراضات اٹھائے، وہ تماشا اب بھی جاری و ساری نہ ہوتا۔ عدلیہ آزاد ہوتی تو بہتر طرزِ حکمرانی کے لئے کیے گئے اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرواتی اور بیوروکریسی غیرسیاسی ہوتی، اس میں تعیناتیاں میرٹ کے مطابق ہوتیں اور سیاستدانوں یا بیرونی مداخلت سے روز روز سرکاری افسروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نہ پھینکا جاتا۔ اگر عدلیہ آزاد ہو گی تب ہی آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پاکستان میں نہ آئین کی پاسداری کی جاتی ہے اور نہ یہاں قانون کی حکمرانی موجود ہے۔ پاکستان میں تو انصاف کی فراہمی سب سے بڑا خواب ہے۔ یہاں تو لوگ انصاف کے لئے عدالتوں میں جانے سے ڈرتے ہیں۔ ایک طرف اسٹے آرڈرز اور دوسری طرف مہنگے وکیل۔ یہ صورتحال ظالم، پیسے والے اور طاقت ور کے لئے تو بہت بہتر ہے لیکن مظلوم پر مزید ظلم ہے۔ چھوٹے چھوٹے مقدمات میں برسوں بلکہ دہائیوں میں فیصلے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے عام آدمی عدالت جانے سے ڈرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے آزاد منش ججوں کو جب ٹارگٹ کیا جاتا ہے تو انہیں انصاف ملنے میں مشکل پیش آتی ہے تو ایک عام پاکستانی کو کون انصاف دے گا؟ سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ جب سپریم کورٹ میں تھے تو ان کے خلاف اسلام آباد میں بینرز لگا دیے گئے کیوں کہ وہ بھی جسٹس فائز عیسی کی طرح آزاد اور نڈر تھے۔ اس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا لیکن کچھ نہیں ہوا اور کسی ذمہ دار کو پکڑ کر سزا نہیں دی جا سکی حالانکہ بہت سے ثبوت سامنے موجود تھے لیکن انہیں دیکھنے سے سب قاصر تھے۔ ان حالات میں عام پاکستانی کے ساتھ کیا انصاف ہوتا ہوگا؟ اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔

اگر عدلیہ آزاد ہو جائے تو اسٹیبلشمنٹ کی کبھی ہمت نہ پڑے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت ……؟ صحافی انصار عباسی نے سوال اٹھا دیا

اگر عدلیہ آزاد ہو جائے تو اسٹیبلشمنٹ کی کبھی ہمت نہ پڑے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت ……؟ سینئر صحافی انصار عباسی نے تمام سوال اٹھا دیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ میری ذاتی رائے میں سب سے اہم سوال عدلیہ کی آزادی کا ہے کیوں کہ اگر عدلیہ آزاد ہو گی تو میڈیا آزاد بھی ہو گا اور ذمہ دار بھی اور تمام اداروں کو آئین و قانون کے مطابق اپنی اپنی حدود میں رکھنا ممکن ہوگا۔ اگر عدلیہ آزاد ہو گی تو اسٹیبلشمنٹ اپنی آئینی حدود سے باہر نکل کر سیاست میں مداخلت نہیں کر سکیں گی، نہ ہی حکومت اور حکمران ملک میں اقربا پروری، رشوت، سفارش، کرپشن کر سکیں گے۔ اگر عدلیہ آزاد ہو تو نہ ہمیں گمشدہ افراد کا مسئلہ درپیش ہوگا اور نہ ہی صحافیوں سمیت اختلاف کرنے والوں کو اٹھانے اور ان پر تشدد کرنے والے ہی گمنام رہیں گے۔ اگر عدلیہ آزاد ہوتی تو احتساب کے نام پر جو نیب کر رہا ہے اور جس کے بارے میں بار بار اعلی عدلیہ نے خود بہت سخت فیصلے دیے اور اعتراضات اٹھائے، وہ تماشا اب بھی جاری و ساری نہ ہوتا۔

عدلیہ آزاد ہوتی تو بہتر طرزِ حکمرانی کے لئے کیے گئے اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرواتی اور بیوروکریسی غیرسیاسی ہوتی، اس میں تعیناتیاں میرٹ کے مطابق ہوتیں اور سیاستدانوں یا بیرونی مداخلت سے روز روز سرکاری افسروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نہ پھینکا جاتا۔ اگر عدلیہ آزاد ہو گی تب ہی آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پاکستان میں نہ آئین کی پاسداری کی جاتی ہے اور نہ یہاں قانون کی حکمرانی موجود ہے۔ پاکستان میں تو انصاف کی فراہمی سب سے بڑا خواب ہے۔ یہاں تو لوگ انصاف کے لئے عدالتوں میں جانے سے ڈرتے ہیں۔ ایک طرف اسٹے آرڈرز اور دوسری طرف مہنگے وکیل۔ یہ صورتحال ظالم، پیسے والے اور طاقت ور کے لئے تو بہت بہتر ہے لیکن مظلوم پر مزید ظلم ہے۔

چھوٹے چھوٹے مقدمات میں برسوں بلکہ دہائیوں میں فیصلے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے عام آدمی عدالت جانے سے ڈرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے آزاد منش ججوں کو جب ٹارگٹ کیا جاتا ہے تو انہیں انصاف ملنے میں مشکل پیش آتی ہے تو ایک عام پاکستانی کو کون انصاف دے گا؟ سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ جب سپریم کورٹ میں تھے تو ان کے خلاف اسلام آباد میں بینرز لگا دیے گئے کیوں کہ وہ بھی جسٹس فائز عیسی کی طرح آزاد اور نڈر تھے۔ اس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا لیکن کچھ نہیں ہوا اور کسی ذمہ دار کو پکڑ کر سزا نہیں دی جا سکی حالانکہ بہت سے ثبوت سامنے موجود تھے لیکن انہیں دیکھنے سے سب قاصر تھے۔ ان حالات میں عام پاکستانی کے ساتھ کیا انصاف ہوتا ہوگا؟ اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button