پاکستان

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ ان کی ڈور کہاں سے ملائی جاتی ہے؟ ہوشرباء حقائق منظر عام پر آ گئے

جو آرڈیننس جاری کیا گیا وہ مبہم ہے، اس میں بہت ساری پیچیدگیاں ہیں‘ آرڈیننس میں خالی شو آف ہینڈز نہیں ہے بلکہ اس میں ترجیحات بتانا ہوتی ہیں

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ ان کی ڈور کہاں سے ملائی جاتی ہے؟ اس حوالے سے ہوشرباء حقائق منظر عام پر آ گئے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار محسن بیگ نے کہا کہ جو آرڈیننس جاری کیا گیا وہ مبہم ہے، اس میں بہت ساری پیچیدگیاں ہیں۔ آرڈیننس میں خالی شو آف ہینڈز نہیں ہے بلکہ اس میں ترجیحات بتانا ہوتی ہیں۔ آرڈیننس میں تین کیٹگریز بتانا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساری بات ترجیحات کی ہوتی ہے، بعض مرتبہ کوئی نمبرز میں جیت بھی جائے تو ترجیحات میں آ کر ہار جاتا ہے۔ یہ آرڈیننس مبہم ہونے کے باوجود اتنی جلدی میں جاری کر دیا گیا، اس کے پیچھے زیادہ سوچا نہیں گیا۔ مسئلہ یہی آ رہا تھا کہ اگر سینیٹ انتخابات کی تاریخ آ جائے تو اور شیڈول جاری ہو گیا تو ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو خطرہ یہی ہے کہ ہمارے لوگ کسی اور کو ووٹ نہ دے دیں۔

محسن بیگ نے کہا کہ کہنے کو تو پاکستان تحریک انصاف ڈھائی سال سے حکومت میں ہے لیکن ان کی پارٹی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ان کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ دوسری جانب بزدار صاحب چونکہ پی ٹی آئی سے نہیں ہے اسی لیے وہ پی ٹی آئی والوں کو زیادہ لفٹ نہیں کرواتے۔ بزدار کا تعلق کسی اور جگہ سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عثمان بزدار سمجھتے ہیں کہ انہیں پی ٹی آئی کی ضرورت نہیں ہے اور وہ واقعی بالکل صحیح سمجھتے ہیں۔ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کے پنجاب کے اراکین اسمبلی کا ماننا ہے کہ مرکز سے جن امیدواروں کی فہرست آئے گی ہم سینیٹ انتخابات میں اس کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ہم اپنے پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے۔ دوسری جانب آٹ سائیڈر وفاقی حکومت میں ہے، جو یہ خواہش کرتے ہیں کہ انہیں سینیٹ میں ٹکٹ دیا جائے، جیسے پہلے ہوا تھا کہ پیسہ چلا کر پی ٹی آئی کے لوگ خرید لیے گئے تھے پھر خان صاحب نے ان کو پارٹی سے نکال دیا تھا، اسی لیے اب پاکستان تحریک انصاف ڈری ہوئی ہے کیونکہ اب بھی اگر پیسہ چل گیا تو پی ٹی آئی کی ہار کے قوی امکانات ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button